1. یہ صفحات اکادمی فروغ نعت گوجرانوالہ شاخ کے لیئے مخصوص ہیں ۔۔۔ الحمد للہ گوجرانوالہ میں اکادمی کی شاخ کے قیام اور فروغ نعت کے مقاصد کے حصول کے لیئے سید اعجاز شاہ عاجز، حافظ عبدالغفاواجد اور پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ طاہر کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ سہ ماہی مجلہ فروغ نعت کے تین شمارے ۱۰، ۱۱، ۱۲ گوجرانوالہ ریجن میں نعتیہ روایت پر مشتمل خصوصی اشاعتیں ہیں ۔ اور یہ خصوصی اشاعتیں بھی گوجرانوالہ براچ کی مرہون منت ہیں۔۔ ان صفحات پر گوجرانوالہ برانچ کے زیر اہتمام ہونے والی سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم ہونگی
  2. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

اکادمی فروغ نعت گوجرانوالہ کے تاسیسی اجلاس و مشاعرہ کی روداد

'اکادمی فروغ نعت گوجرانوالہ' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہ بابا, ‏اگست 6, 2016۔

  1. شاہ بابا

    شاہ بابا فضائے نعت میں رہنے سے دل دھڑکتا ہے رکن انتظامیہ

    پیغامات:
    683
    اکادمی فروغِ نعت پاکستان
    گوجرانوالہ شاخ کا تاسیسی اجلاس
    رپورٹ: حافظ عبدالغفار واجد

    اب سے تین سال قبل سید شاکرالقادری چشتی نظامی نے اٹک میں اکادمی فروغ نعت کی بنیادرکھی ، اس اکادمی کے زیر اہتمام نعتیہ ادب کے فروغ کے لیے ایک سہ ماہی مجلے کا آغازکیا گیا، ماہانہ تنقیدی نعتیہ مشاعروں کی بنیاد رکھی گئی، اور شعرا کو نعت گوئی کی طرف مائل کیا جانے لگا۔اور نعتیہ تنقیدی اجلاسوں کی طرح ڈالی گئی۔ اولین مجلہ کا اداریہ اکادمی کے مقاصد کی عکاسی نہایت عمدگی سے کرتا ہے۔ اکادمی کے بانی اور سہ ماہی فروغ نعت کے مدیرکے خلوص، للہیت اور محبت رسول کے سچے جذبے کے سبب یہ سلسلہ خیر وسیع ہوتا گیا ۔ ملک اور بیرون ملک کے نعت پسنداس سے جڑنے لگے۔ اور اندرون ملک اس کی مختلف شاخوں کے قیام کے امکانات پیدا ہوئے۔ چنانچہ سب سے پہلے خانیوال میں معروف نعت گو شاعر جناب عدیم عباس قریشی کی سرپرستی میں اکادمی فروغ نعت کی شاخ قائم کی گئی۔ اس کے بعد کامونکی سے تعلق رکھنے والے حافظ عبدالغفار واجد سیکرٹری قلم قبیلہ کامرہ کی وساطت سے گوجرانوالہ کے ایک سید زادے سید محمداعجاز شاہ عاجزؔ جو محبت رسول سے سرشار ہیں اور نعت گو شاعر بھی ہیں، اکادمی سے متعارف ہو کر اس میں شامل ہوئے اور اکادمی کے تحت سوشل میڈیا گروپ”فروغ نعت“ میں اپنی بھرپور سرگرمیوں کی بنا پر نہ صرف گوجرانوالہ کے تمام نعت پسندوں کے فروغ نعت سے تعلق کا مضبوط وسیلہ بنے بلکہ اپنے خلوص، محبت اور نعت پسندی سے کچھ ہی عرصہ میں کلیدی حیثیت اختیار کر لی۔ اور اکادمی فروغ نعت کی گوجرانوالہ میں شاخ کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا۔ اوراس خواہش کو بہت کم عرصہ میں عملی جامہ بھی پہنا دیا اور اکادمی کے قیام کے لیے ایک شاندار افتتاحی تقریب کا اہتمام کر ڈا لا۔ افتتاحی تقریب کی روداد حسب ذیل ہے۔

    اکادمی کی افتتاحی تقریب اور نعتیہ مشاعرہ ۸؍اگست ۲۰۱۵ بروز ہفتہ بعداز نمازِ مغرب ڈسٹرکٹ بار کونسل ہال گوجرانولہ میں بانی و سرپرست اعلیٰ فروغِ نعت اکیڈمی اٹک پاکستان جناب سید شاکر القادری چشتی نظامی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ مہمانِ خصوصی اٹک کے معروف شاعر جناب مشتاق عاجز صاحب تھے جبکہ مہمانانِ اعزازصاحبزادہ پیر فیض الامین فاروقی گجرات، جناب ذکا اللہ اثر حافظ آباد، اور جناب چودھری خالد لطیف صدر ڈسٹرکٹ بار کونسل گوجرانوالہ تھے۔ اس خوب صورت تقریب کاآغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت علامہ صہیب ثاقب چکوال نے حاصل کی جبکہ نعت رسول مقبولؐ کا شرف محمد عدیل بشیر منہاس کامونکی اور جناب سید محمدبلال شاہ اٹک نے حاصل کیا۔ اور اپنے منفرد انداز سے سامعین کے دل جیت لیے۔ اس بابرکت محفل میں گوجرانوالہ، کامونکی، قلعہ دیدار سنگھ، حافظ آباد، گجرات، چکوال اور اٹک سے نعتیہ ادب سے وابستہ احباب نے بھرپور انداز میں شرکت کی اور فروغِ نعت اکیڈمی گوجرانوالہ کے قیام کا خیرمقدم کیا اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ میزبانِ محفل جناب سید محمد اعجاز گوجرانوالہ اور حافظ عبدالغفار واجد کامونکی کو اس محفل کے انعقاد پر صمیم قلب سے مبارک باد پیش کی اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ تقریب کے آغاز میں صاحبزادہ عروس فاروقی مونیاں شریف گجرات نے نعت کے فنی محاسن کے عنوان پر سیرحاصل گفتگو کی جس کو شرکا نے خوب سراہا۔ گوجرانوالہ کے معروف شاعر جناب پروفیسراحسان اللہ طاہر نے گوجرانوالہ میں نعت کی روایت کے حوالے سے خوب صورت مقالہ پیش کیا اور کہا کہ گوجرانوالہ میں نعتیہ ادب میں بے شمار نام پائے جاتے ہیں جن میں محمد سلیم فارانی، عزیز لدھیانی، پروفیسر عبداللہ جمال، پروفیسرسجادمرزا،الحاج محمد حنیف نازش قادری، پروفیسر محمد اکرم رضا، پروفیسر محمد احمد شاد ،بابو رمضان شاہد، ڈاکٹر حفیظ احمد، غلام مصطفےٰ بسمل، محمد اقبال نجمی، پروفیسر اقبال جاوید، پروفیسر فیض رسول فیضان قابلِ ذکر ہیں۔ احسان اللہ طاہر صاحب نے نعتیہ ادب کے فروغ کے حوالے سے بتایا کہ گوجرانوالہ میں اگر غزل کا مشاعرہ بھی ہو تو نعتیہ مشاعرے کی جھلک نظر آتی ہے۔ گوجرانوالہ میں جس قدرنعت کا فروغ ہورہا ہے اس شہر کو شہرِ درودوسلام کہنا بے جا نہیں۔ طاہر صاحب نے متعدد شعراء کا نمونہ کلام پیش کیااور سامعین سے خوب داد سمیٹی اور نہایت مثبت انداز میں گوجرانوالہ کی نعتیہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کے بعد فروغِ نعت پاکستان کے بانی و سرپرست جناب سید شاکر القادری نے اپنے خطاب میں اکادمی کے قیام اور اس کے اغراض ومقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اکادمی کے مقامی اراکین کے جذبہ عشق رسول کو سراہا، بیس سال قبل اپنی گوجرانوالہ آمد، یہاں کے ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کی یادوں کو بھی تازہ کیااور گوجرانوالہ کے نعت گو شعراء کو وطن عزیز کے مداحان رسول کا ہراول دستہ قرار دیتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سہ ماہی ”فروغ نعت“ سے علمی اور قلمی تعاون کی درخواست بھی کی جس پراہل علم حضرات نے انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔اس بابرکت محفل میں گوجرانوالہ اور گردونواح سے متعددشعرائے کرام نے شرکت کی۔ جن کے اسمائے گرامی اور نمونۂ کلام درج ذیل ہیں:

    حافظ عبدالغفار واجد(کامونکی) :

    تری رحمت دا مل جاوے جے بھورا یارسول اللہ
    تے کجھ وی نئیں مرے عیباں دا بورا یارسول اللہ
    مدینے جان تو پہلاں نہ آجاوے قضا میری
    مکائی جاندا واجد نوں ایہہ چوہرا یارسول اللہ

    سید محمد اعجاز عاجز(گوجرانوالہ)

    بروز حشر یہ ہوگا نجات کا ضامن
    جو مجھ کو حرف تری نعت کا عطا ہوا ہے
    بقا میں اس کا بھی حصہ ضرور ہے عاجز
    جو حب احمد مختار میں فنا ہوا ہے

    سرفراز احمد منتظر(قلعہ دیدار سنگھ):

    کرے بہشت سے مجھ کو نہ درکنار درود
    اسی لیے تو میں پڑھتا ہوں بار بار درود
    زہے نصیب کہیں لایا ہے تو کیا تحفہ
    بروزِ حشر کہوں گا بے اختیار درود

    امجد تبسم (کامونکی):

    حسن و جمال احمد مرسل ہے باکمال
    مظہر ہیں آپ ذات کی جملہ صفات کا
    امجد ہیں کائنات میں جتنی بھی نعمتیں
    نور و ظہور سب ہے مدینے کی ذات کا

    محمد عمران تنہا(کامونکی):

    حسنِ سرکار جب چاہا کرنا بیاں عقل پر بے بسی کا حصار آگیا
    ایسی تصویر تھی ایسا شہکار تھا خود مصور کو بھی جس پہ پیار آگیا
    دی تجھے اک نئی زندگی نعت نے تیرے فن کو جلا بخش دی نعت نے
    جب بھی لکھنے لگا نعتِ ختم رسل تیرے شعروں پہ تنہا نکھارآگیا

    حافظ محمد رمضان سہروردی(گوجرانوالہ):

    بختاں والے شہر مدینے جاندے نیں
    روکر آقا نوں دل دا حال سناندے نے
    تائیوں ہر عاشق نوں اپنے کول پئے
    آقا واری واری آپ بلائوندے نیں

    محمد شاہد قادری(کامونکی):

    مٹ جاتے ہیں سب رنج و الم رحمتِ عالم
    ہوتا ہے ترا جس پہ کرم رحمتِ عالم
    یہ قادری ناچیز تو ان سوچوں میں گم ہے
    ہو کیسے تری نعت رقم رحمتِ عالم

    پروفیسراحسان اللہ طاہر(گوجرانوالہ):

    جند ویل مدینے والے دی
    ساہ ویل مدینے والے دی

    محمد اسلم پیا(کامونکی):

    سائل کی کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی
    اس در سے کوئی جھولی بھی خالی نہیں جاتی
    رہتے ہیں وہ مائل بہ کرم دیتے ہیں اتنا
    منگتوں سے وہ خیرات سنبھالی نہیں جاتی

    محمد قاسم کیلانی(حافظ آباد):

    قریۂ ادراک میں میرے سمائے روشنی
    جب پڑھوں میں نعت سرور مسکرائے روشنی
    بارگاہِ مصطفےٰ میں منبعء رخشندگی
    روشنی لینے یہاں خود روز آئے روشنی

    ثاقب علوی(کامونکی):

    نہیں ہے بے سبب دامن درِ سرکار سے باندھا
    خدا نے سرفرازی کو ہے اس دربار سے باندھا
    تجھے اللہ دے اجرِ جزیل اس نعت پر ثاقب
    ردیف و قافیہ تو نے ہے کتنے پیار سے باندھا

    صاحبزادہ عروس فاروقی(گجرات):

    تیری شاہی ترا قبضہ دیکھوں
    ہر طرف تیرا اجارہ دیکھوں
    ماہِ طیبہ کے تصور سے عروس
    دل کی دنیا میں اجالا دیکھوں

    صہیب ثاقب(چکوال):

    یہ تیری شانِ کریمی ہے اے مرے آقا
    ملا تو جس سے ملا درد آشنا کی طرح
    فروغِ نعت کو یارب قبول عام ملے
    کہ جس نے ڈالی ہے یہ نعت مصطفےٰ کی طرح

    حسین امجد(اٹک):

    یہ مجھ غریب پہ احسان ہو نہیں سکتا
    حضور آپ کا مہمان ہو نہیں سکتا؟
    حضور آپ مری مشکلوں کو جانتے ہیں
    سفر حیات کا آسان ہو نہیں سکتا؟

    ذکا اللہ اثر(حافظ آباد)

    کونین کے غم خوار نگہدار بیک وقت
    ہیں شاہِ امم سیدِ ابرار بیک وقت
    ہر لمحہ دو عالم کے لیے ذاتِ محمد
    ہیں فیض رسا اور ضیا بار بیک وقت

    مشتاق عاجز(اٹک)

    شاعری کے حسن کو پوشاک سادہ چاہیے
    اک مقدس نعت کا اجلا لبادہ چاہیے
    نعت کہنے کے لیے اے وارثِ لوح و قلم
    آپ کی چشمِ کرم سے استفادہ چاہیے

    صاحبزادہ فیض الامین چشتی(گجرات)

    جس پہ خیرالوریٰ کا کرم ہوگیا
    دونوں عالم میں وہ محترم ہوگیا
    ان کی نسبت کے صدقے میں فیض الامیں
    مجھ پہ آسان سفرِ عدم ہوگیا

    بابورمضان شاہد(گوجرانوالہ):

    جلوؤں کی بھیک دے مجھے در کی گدائی دے
    صلی علیٰ کے ذکر کی مدح سرائی دے
    اے شوق لے کے چل مجھے شہرِ رسول میں
    پھر کون ہے کہ جو مجھے ان سے جدائی دے

    سید شاکر القادری(اٹک)

    درود نغمۂ نعت نبی کا سرگم ہے
    سدا بہار دعاؤں کا ہے وقار درود
    درود زمزمۂ وقت ہے ترانہ ہے
    حریم ذات میں پڑھتا ہے کردگار درود
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    Last edited: ‏اگست 6, 2016
  2. شاہ بابا

    شاہ بابا فضائے نعت میں رہنے سے دل دھڑکتا ہے رکن انتظامیہ

    پیغامات:
    683
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    296
    بہت خوب امید ہے کہ آپ اس سیکشن میں گوجرانوالہ برانچ کی تمام اجلاسوں کی کارروائیوں کو اپ ڈیٹ کر تے رہیں گے
    @شاہ بابا
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. شاہ بابا

    شاہ بابا فضائے نعت میں رہنے سے دل دھڑکتا ہے رکن انتظامیہ

    پیغامات:
    683
    انشاءاللہ
    • دوستانہ دوستانہ x 1