1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

کتابوں پر تبصرے حرفِ نیاز ۔۔ حنیف نازش کے نعتیہ مجموعہ (نیاز) پر تبصرہ

'کتابوں پر تبصرے' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکرالقادری, ‏اگست 5, 2016۔

  1. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    296
    حرفِ نیاز

    گذشتہ نصف صدی سے پاکستان میں نعت گوئی ایک مضبوط و توانا تحریک کی صورت میں سامنے آئی جس نے اس ابلیسی سازش کا قلع قمع کر دیا جس کے مطابق پاکستانی ادیب اور شاعر کے جسم سے روحِ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نکالنا مقصود تھا۔اس تحریک کے نتیجے میں بہت سے ایسے شعرا بھی ”حصارِ نعت“ میں داخل ہوگئے جو نعت کو کمتر درجہ کی شاعری خیال کرتے تھے، اس طرح فن شعر کے تمام اسالیب میں نورِ مدحت نے اپنی نمود کی،غزل گو شعرا نے غزل کو تقدس سے آشنا کیا اور جب غزل باوضو ہوئی توترقی یافتہ ہو کر باب مدحت میں داخل ہوگئی جس سے ایک طرف تو غزل کو نئے موضوعات اور امکانات دستیاب ہوئے تو دوسری جانب تخلیق نعت کا معیار بھی بلند ہوا۔
    نعت ایک ایسی صنف سخن ہے جو تخلیقی صلاحیتیوں اور ذوق و وجدان کی جمالیاتی جہات کے ساتھ ساتھ قرآن حکیم اور سیرت طیبہ کے گہرے مطالعہ کی بھی متقاضی ہے۔آج کے زیر گفتگو مجموعہ نعت کے شاعر جناب حنیف نازش اس اعتبار سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں اوائل عمر سے ہی علما و مشائخ کی صحبت حاصل رہی جس نے ان کی دینی اور روحانی بنیادوں کو محکم و استوار کیا، گوکہ حنیف نازش قادریہ سلسلہ میں پیر سید عبدالمعبود گیلانی قادری کے دست گرفتہ ہیں لیکن بچپن میں خواجہ لطیف احمد چشتی کی صحبت میں رہنے کی وجہ سےان میں چشتیانہ ذوق و سرمستی بھی سرایت کر چکے تھے جس سے ان کے ذوق شعری کو مہمیز ملی اور سمند فکر کو تازیانہ نصیب ہوا۔ حنیف نازش کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں اپنی شاعری کا آغاز اس معشوقہ دلنواز سے کیا جسے غزل کہتے ہیں لیکن جلد ہی انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ:
    ز وصفِ لالہ رخان قدرِ تو نیافزاید
    کنی چہ کارِ عبث مدحت پیمبر کن
    (شاکرالقادری)
    غزل سے نعت کی جانب اس سفر نےاگرحضرت نازش کے شعرکو فنی ،تیکنیکی اور تاثیری جمال بخشا تو اور ان کی مضبوط مذہبی اور روحانی تربیت نے انکی فکری جہات کو وسعت و کمال عطاکیا۔ یوں ان کی نعت فکری اور فنی دونوں اعتبار سے ان کی سر شاریٔ طبع کی آئینہ دار بن گئی۔ان کے ذوق سلیم اورقرآن و سنت کے بسیط مطالعہ نے انہیں اظہارو بیان کےمختلف قرینوں پر کامل قدرت عطا کی ہے ان کے اشعار بیک وقت عام فہم، سادہ اور تہہ دار و معنی خیز ہیں، انہوں نے نعت گوئی کے تمام امکانات سے بھرپوراستفادہ کرتے ہوئے اپنی نعت کومتنوع خوبیوں سے آراستہ کیا۔
    ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جب اخلاقِ پیمبر سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواباً فرمایا تھا”کان خلقہ قرآن“ آپ کا اخلاق قرآن تھا،سو اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قرآن کریم سے راہنمائی حاصل کیے بغیرنعت کہنا اندھیرے میں سفرکرنے کے مترادف ہےحضرت حنیف نازش اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں چنانچہ انہوں نے اپنی نعت کو محض تخیل کی بلند پروازی اور تخلیقی صلاحیتوں کے بل بوتے پر استوار نہیں کیا بل کہ انہوںنےقران کریم سے مضامینِ نعت اخذ کیے۔
    رحمت ہر دو جہاں کا ہے سراپا قرآن
    ان کی نعت، ان کی ثنا، ان کا قصیدہ قرآن
    آیت آیت میں ہیں مذکور ادائیں ان کی
    سر بسر آپ کا خلق، آپ کا اُسوہ قرآن
    قرآن کریم سے اس فکری اخذ و استفادہ سے بڑھ کر انہوں نے کمال درجہ کی فنی مہارت کے ساتھ اپنے اشعار کو قرانی آیات کے ٹکڑوں سے مزین کیا ہے اور اکثر مقامات پر وہ قرآنی الفاظ کو اس بے ساختگی اور روانی کے ساتھ نظم کرتے ہیں کہ بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے مجموعہ میں شامل” نعتیہ قطعات“ اس کی خوبصورت مثالیں ہیں، ان نعتیہ قطعات میں قرآنی الفاظ کواس طرح نظم کیا گیاہے کہ چار مصرعوں میں ان الفاظ قرآنی کی پورے سیاق و سباق کے ساتھ تفہیم بھی ہو جاتی ہے۔
    اسی طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیرت طیبہ بھی نعت نگاری کے لیے بنیادی فکری اور موضوعاتی ماخذ ہیں حضرت حنیف نازش نے ان سے بھی کما حقہ استفادہ کیا ہے۔ ان کی نعت کے آئینے میںہمیں جابجاسیرت طیبہ کی روشنی عکس فگن نظر آتی ہے، سیرت طیبہ سے باہمی مہرومحبت، اخوت ، مساوات اور انسان دوستی کا جو عالم گیر پیغام ملتا ہے، وقت کی اہم ضرورت ہے کہ نعت کے ذریعہ اس پیغام کو عام کیا جائے، موجودہ دور میں جب کہ اسلام پر طرح طرح کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں، نعت گو شعرا پر لازم ہے کہ وہ اپنی نعت میں حیات طیبہ کے ایسے تمام پہلووں کو سامنے لائیں جن سے انسان دوستی اور اتفاق و اتحاد کا درس ملتا ہو، حضرت حنیف نازش وقت کی اس اہم ضرورت سے آگاہ ہیں چنانچہ انہوں نے اپنی نعت میں اس پیغام کو عام کرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔زیر نظر مجموعہ نعت ”نیاز“ میں شامل خطبۂ حجة الوداع کا منظوم ترجمہ اس کی بہترین مثال ہے۔انسان دوستی کے حوالے سے فتح مکہ کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے یہ وہ دن ہے جب پیغمر ِ رحمت نے اپنے کھلے واضح دشمنوں کو امان بخشی اور ان کے گھروں کو بھی جائے امان اور پناہ گاہ کا درجہ دے دیا۔ انسانی بنیادوں پر عام معافی کی شاید ہی کوئی ایسی مثال انسانی تاریخ میںملتی ہو:
    ان سی رحمت کہ ملے جس سے عدو کو حصہ
    لاکھ ڈھونڈی ہے مگر، پائی نہ دیکھی نہ سنی
    حضرت حنیف نازش نے اپنی نعت میں میلادالنبی، بعثت نبوی، معجزات نبوی، مدینة الرسول سے دوری و حضوری،اور سیرة النبی کے دیگر متفرق مضامین کی عکاسی کی ہے ۔ اگر ان کے نعتیہ موضوعات کا فرداً فرداً جائزہ لیا جائے تویہ مختصر سا مضمون اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔بقول ڈاکٹر عاصی کرنالی:
    ”رہا یہ سوال کہ ان کی نعت میں کیا کیا مضامین ہیں؟سو اس کا جواب ہے کہ کیا کیا مضامین نہیں ہیں۔ وہ یہ گلدستۂ ”نیاز“ جانِ بہاراں کی نذر کر رہے ہیں، جو ان شا اللہ پذیرائی حاصل کرے گا ۔“
    فنی اعتبار سے بھی حضرت نازش کی نعت ایک خاص آب و تاب کی حامل ہے، انکی بحریں رواں اور مترنم ہیں، وہ الفاظ و تراکیب کوان کی مخصوص تہذیبی فضا کے ساتھ استعمال کرنا جانتے ہیں، عشق و سرمستی اور سرشاری و وارفتگی کے ساتھ ان کے اشعار میں الفاظ کو نئی معنویت ملتی ہے۔انکی ردیفیں خوبصورت اور ذوق افروز ہیںوہ جمالیات شعرکا خاص خیال رکھتے ہیں تاہم کبھی کبھی انوکھی ردیفوں اور قوافی کا شعوری اہتمام ذوقِ لطیف پر گرانباری کا احساس پیدا کرتا ہےلیکن ایسا بہت کم کم ہے۔ عام طور پر وہ مشکل پسندی سے گریز کرتے ہیں،ان کی زبان سادہ ، سہل اور عام فہم ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی نعتیں مجالس و محافل نعت میں انتہائی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ریاض مجید اسے” مجلسی اندازِ نعت“ کا نام دیتے ہیں۔گو کہ کسی بھی نعت گو کے لیے نعت کا بنیادی مقصد مجلس آرائی نہیں بلکہ پیغمبرِ رحمت و رافت سے وابستگی کا اظہار ہوتاہےجو براہ راست عقیدت وعبادت ہے،لیکن اگر روائتی مجلس آرائی کے غیر محتاط رویوں سے اجتناب کرتےہوئے عام فہم، سادہ اور متین زبان وبیان ساتھ مضامین سیرت کو پیش کیا جائے تو یہی مجالس و محافل تبلیغ دین کا اہم ذریعہ بن جاتی ہیں جو براہ راست عوام الناس کی اصلاح کا باعث بنتی ہیں،ایسی محافل محض” مجلس آرائی“ کی حدود سے نکل کر عبادت کے دائرہ میں داخل ہو جاتی ہیں۔ حضرت حنیف نازش کا اسلوب نعت بھی ایسا ہی ہے۔ اس بنا پر وہ صرف نعت گو شاعر نہیں بلکہ ”مبلغ سیرتِ رسول“ بھی قرار پاتے ہیں۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ نعت رسول کائنات کے فروغ کے لیے مزید توفیقات عطا فرمائے آمین۔

    سید شاکرالقادری
    مدیر سہ ماہی فروغ نعت
    ۱۰/اکتوبر ۲۰۱۵
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    Last edited: ‏اگست 9, 2016
  2. شاہ بابا

    شاہ بابا فضائے نعت میں رہنے سے دل دھڑکتا ہے رکن انتظامیہ

    پیغامات:
    689
    ماشاءاللہ۔ اللہ کریم حاجی صاحب کو سلامت رکھے اور انکے تخیل کو مزید رفعتیں عطا فرمائے۔ آمین