1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

تضمین رسم شبیر جگانے کے لئے (کلامِ پیر نصیر الدین نصیؔر) ۔ تضمین نگار: خالد رومؔی نظامی

'انتخابِ تضمینات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالمیزاب اویس, ‏ستمبر 16, 2018۔

  1. ابوالمیزاب اویس

    ابوالمیزاب اویس ــــ:ناظمِ فروغ نعت:ــــ رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    829

    : تضمین :
    *****
    بر کلام چراغ گولڑہ, نصیر ملت مخدوم المخادیم اعلحضرت الشیخ پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی قادری چشتی نظامی قدس سرہ السامی:
    --------------------------------------------

    منزل عزم کو پانے کے لئے
    قدر انساں کی بڑھانے کے لئے
    دولت امن بچانے کے لئے

    رسم شبیر جگانے کے لئے
    ہم نے غم سارے زمانے کے "لئے"

    مانتا ہے یہ دل ہر با ذوق
    اندھا کیا جانے ؟ کہ ہے عقل سے فوق
    ڈالے گردن میں غلامی کا طوق

    منزلیں بن گئیں خود جادہء شوق
    ابن زھرا ! تجھے پانے کے لئے

    عبد اللہ نما کافی ہے
    ان کا نقش کف پا کافی ہے
    کیا بتاؤں, مجھے کیا کافی ہے

    کربلا ! تیری صدا کافی ہے
    ساری دنیا کا جگانے کے لئے

    کیا بچا, کیا نہ بچا کافی ہے
    تو نے ظالم جو کیا کافی ہے
    زیر گردوں جو ہوا, کافی ہے

    کربلا ! تیری صدا کافی ہے
    ساری دنیا کو جگانے لئے

    ھل اتی' ! تیری صدا کافی ہے
    انما ! تیری صدا کافی ہے
    مقتدا ! تیری صدا کافی ہے

    کربلا ! تیری صدا کافی ہے
    ساری دنیا کو جگانے کے لئے

    صحن دنیا کی ہوا جافی ہے
    مجلس فرش عزا وافی ہے
    غم شبیر سدا شافی ہے

    کربلا ! تیری صدا کافی ہے
    ساری دنیا کو جگانے لئے

    دبنا سیکھو, نہ ہی کٹنا سیکھو
    اہل باطل پہ جھپٹنا سیکھو
    مکر کی چال الٹنا سیکھو

    کج اداؤں سے نبٹنا سیکھو
    حق پرستی کو بچانے کے لئے

    حق کی رحمت کا خزینہ آیا
    لیجے ! ساحل پہ سفینہ آیا
    یاد سقاۓ سکینہ آیا

    پھر محرم کا مہینہ آیا
    حشر سینے میں اٹھانے کے لئے

    غم شبیر متاع کونین
    جس سے مشروط فلاح دارین
    دل کی تسکین, یہی روح کا چین

    اشک کے روپ میں ہے ذکر حسین
    آنکھ کا نور بڑھانے کے لئے

    ہے تری ذات اجل, آفاقی
    اور تری بات اٹل, آفاقی
    تیرے اسباب و علل, آفاقی

    تیرا کردار و عمل, آفاقی
    تیرا پیغام, زمانے کے لئے

    بحر ہستی میں اترنا ہو گا
    اپنے ہونے سے مکرنا ہو گا
    دامن مرگ کو بھرنا ہو گا

    اک قیامت سے گزرنا ہو گا
    در شبیر تک آنے کے لئے

    بیکسی اپنی گوارا کر لی
    جو ہوئی, اپنی گوارا کر لی
    بھوک تھی اپنی, گوارا کر لی

    تشنگی اپنی گوارا کر لی
    پیاس خنجر کی بجھانے کے لئے

    آن, حق کے لئے دینی ہو گی
    مان, حق کے لئے دینی ہو گی
    شان, حق کے لئے دینی ہو گی

    جان, حق کے لئے دینی ہو گی
    سلسلہ ان سے ملانے کے لئے

    صدمہ و غم کا بھنور ہےدر پیش
    عزم رومی کو اگر ہے در پیش
    پھر تو اک راہ خطر ہےدر پیش

    کربلا تک کا سفر ہےدر پیش
    بس نصیر اٹھتے ہیں, جانے کے لئے

    : تضمین نگار :
    علامہ خالد رومی قادری چشتی نظامی کان اللہ لہ