1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

تضمین کلام رضا قافلے نے سوۓ طیبہ کمر آرائی کی (تضمین نگار : میرزا امجد راؔزی)

'انتخابِ تضمینات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالمیزاب اویس, ‏اکتوبر 9, 2017۔

  1. ابوالمیزاب اویس

    ابوالمیزاب اویس ــــ:ناظمِ فروغ نعت:ــــ رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    777

    آس دِل میں ہے مرے جلوۂ خضرائی کی
    آنکھ سے حسرتیں گِرتی ہیں تمنّائی کی
    میں نے غم ، غم نے مرے ساتھ شناسائی کی
    ’’ قافلے نے سوۓ طیبہ کمر آرائی کی
    مشکل آسان الٰہی مری تنہائی کی‘‘

    جان پر ظلم کیے اپنی ہی رسوائی کی
    خاک آلود ہوۓ ہر جگہ کاسائی کی
    بات بننے پہ پہنچ آئی تماشائی کی
    ’’لاج رکھ لی طمَعِ عفو کے سودائی کی
    اے میں قرباں مرے آقا بڑی آقائی کی‘‘

    ماء و بے ماء کے ترے آگے جزائر حاضر
    سامنے سب ترے اشباہ و نظائر حاضر
    نقشِ امکاں کے ترے آگے دوائر حاضر
    ’’عرش تا فرش ہیں آئینہ ضمائر حاضر
    بس قسم کھایئے اُمّی تری دانائی کی‘‘

    بسکہ تفصیل ہے تو باقی ہیں سارے اجمال
    ایک تو اصل ہے اور باقی ہیں سارے اظلال
    کیسے ممکن ہے کہ پوشیدہ ہوں تجھ سے احوال
    ’’شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال
    دھوم وَالنّجم میں ہے آپ کی بینائی کی‘‘

    واہ کیا گردوں شکوہ آپ کا ہے نازِ خرام
    مرغِ سدرہ کہ ہے اک حیرتِ پیہم میں مدام
    اِس سے بڑھ کر اے شہا پیش ہو کیا حُجّتِ تام
    ’’پانسو سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گام
    آس ہم کو بھی لگی ہے تری شنوائی کی‘‘

    کُن کا اسلوب ہے تو اور فکاں کا منہج
    مرجعِ علمِ حقائق توئی سب کا مخرج
    ہے تری شان کی اُٹھتی ہوئی ایسی سج دھج
    ’’چاند اشارے کا ہِلا حکم کا باندھا سورج
    واہ کیا بات شہا تیری توانائی کی‘‘

    پیشِ خاطر نہیں ہے جس کے قد و قامتِ عرش
    جس کے آگے ہے خجل تابشِ ہر طلعتِ عرش
    جس کی بہتات پہ راؔزی ہے اُٹھے حیرتِ عرش
    ’’تنگ ٹھہری ہے رضؔا جس کے لیے وسعتِ عرش
    بس جگہ دِل میں ہے اُس جلوۂ ہرجائی کی‘‘

    کلام : امام احمد رضؔا خان فاضلِ بریلوی
    تضمین نگار : میرزا امجد راؔزی