1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

تضمین کلام رضا لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نظرٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جانا (تضمین نگار: میرزا امجد رازؔی)

'انتخابِ تضمینات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالمیزاب اویس, ‏اپریل 9, 2018۔

  1. ابوالمیزاب اویس

    ابوالمیزاب اویس ــــ:ناظمِ فروغ نعت:ــــ رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    827

    اے وجہِ ظہورِ جملۂ کُن، تری ذات کو کس نے ہے کیا جانا
    اے مطلعِ اوّل صبحِ ازل تجھے لوح و قلم نے خفا جانا
    تجھے دیکھ کے جو حسّاں نے کہا اسی حرف کو جانِ ادا جانا
    ’’ لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نظرٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جانا
    جگ راج کو تاج تورے سرسو ہے تجھ کو شہِ دوسرا جانا‘‘

    بیڑا تو گیا ہراک سے جدا تنہا میں کھڑا منزل سےکٹا
    وہ آئی گھٹا لے برقِ بلا یہ قہر پڑا وہ شور اٹھا
    تو دستِ عطا اب اپنا بڑھا ساحل پہ لگا بندے کو بچا
    ’’اَلبَحرُ علَا وَالمَوجُ طغیٰ من بے کس و طوفاں ہوش ربا
    منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا موری نیّا پار لگاجانا‘‘

    ہے عالمِ ہُو وحشت ہے بڑی ہر سمت فضا خاموش کھڑی
    رہ رہ کے جو اُٹھ جاتی ہے کبھی آواز ہے دل کے رونےکی
    یہ وادئ ہست و بخت مری کب سے ہے اندھیروں میں ڈوبی
    ’’یَا شَمس نَظرتِ الیٰ لَیلی چو بطیبہ رسی عرضِ بکنی
    توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی موری شب نے نہ دن ہونا جانا‘‘

    آکاشِ عنایت کے بادل یوں برسیں کہ ہو جاۓ جل تھل
    ہر قطرے سے دریا جاۓ نکل ہر موج ہو کوثر کی ہلچل
    ممدوحِ کلامِ نثرِ ازل اے شانِ قصیدہ جانِ غزل
    ’’لکَ بدر فِی الوَجہِ الاَجمل خط ہالۂ مہ زلف ابرِ اجل
    تورے چندن چندر پروِ کنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا‘‘

    اےمعنئ حرفِ شانِ قسم اے جانِ مقامِ حمد و علَم
    اے شافعِ محشر شاہِ اُمم اے مہرِ عرب اے ماہِ عجم
    اے ساقئ میخانۂ حرم اے صاحبِ گردشِ جامِ نعَم
    ’’اَنا فِی عطَشٍ و سخَاکَ اَتَم اے گیسوۓ پاک اے ابرِ کرم
    برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا‘‘

    وہ فخرِ زمیں وہ رشکِ فلک وہ حاضری گاہِ جملہ ملک
    امید کے غنچے جائیں چٹک جالی سے ذرا جانے دو چپک
    بس ٹھہرو ذرا اک اور جھلک بھر جاۓ نظر جاں جاۓ چھلک
    ’’یَا قَافلتی زِیدی اَجَلک رحمے بر حسرتِ تشنہ لبک
    مورا جیرا لرجے دھرک دھرک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا‘‘

    وہ وادئ بطحا کی عظمت فردوس جہاں غرقِ حیرت
    واللہ فضاؤں کی نکہت ہر موجِ صبا موجِ رحمت
    ہجر کی خلوت وصل کی جلوت نقشِ تمنّا رنگِ زیارت
    ’’وَاھًا لِسوَیعَاتٍ ذَھبَت آں عہدِ حضورِ بارگہت
    جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا‘‘

    اب درد مرا حد سے ہے فزوں دن رات نہیں مجھے چین و سکوں
    ٹکڑے ہے جگر خوں تھوکتا ہوں کیا اپنے کہوں احوالِ زبوں
    اے جلوۂ ذاتِ کُن فَیَکوں اے واقفِ کیفِ سوزِ دروں
    ’’اَلقَلبُ شجِن وَالھمُّ شجُوں دل زار چناں جاں زیر چنوں
    پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مورا کون ہے تیرے سوا جانا‘‘

    اے روحِ عوالم صلِّ عَلیٰ ذات مخاطَب لَولَاکَ لَما
    کر کے فروغِ حسنِ زیبا آجا سوۓ چشمِ تماشا
    قَابَ قَاسین اَو اَدنیٰ کا پھر قلب کشادہ جلوہ دکھا
    ’’اَلرّوح فداکَ فَزِد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا
    مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا‘‘

    الطاؔف و عاؔصم و زؔین و وؔفا ہر اک نے بہت اصرار کیا
    پکڑا کے قلم کاغذ یہ کہا استادِ سخن تضمین عطا
    رازؔی ہے کہاں کہاں فکرِ رضاؔ تھا عجز جو انہوں نے یہ لکھا
    ’’بس خامۂ خام نواۓ رؔضا نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا
    ارشادِ احبّا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا‘‘

    کلام: فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ
    تضمین نگار: میرزا امجد رازؔی