1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

تضمین مرحبا سید مکی مدنی العربی ( تضمین نگار : ثقلین احمد منؔور بدایونی)

'انتخابِ تضمینات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالمیزاب اویس, ‏جولائی 16, 2017۔

  1. ابوالمیزاب اویس

    ابوالمیزاب اویس ــــ:ناظمِ فروغ نعت:ــــ رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    761

    اے کہ ہے ختم تری ذات پہ والا نسبی
    وہ تری شان ہے اے ہاشمی و مطلبی
    حبذا صلِّ علٰی اے مرے ممتاز نبی
    ’’ مرحبا سید مکی مدنی العربی
    دل وجاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی‘‘

    شافعِ حشر، شہنشاہِ جہاں، فخرِ امم
    دونوں عالم میں نہیں تجھ سا حسیں تیری قسم
    ایک میں کیا تری صورت پہ فدا ہیں عالم
    ’’من بیدل بہ جمال تو عجب حیرانم
    اللہ اللہ! چہ جمال است بدیں بوالعجبی‘‘

    کوئی دنیا میں نہ آیا ہے نہ آئے تجھ سا
    تجھ کو اللہ نے واللہ وہ رتبہ بخشا
    ہے فرشتوں کی زبانوں پہ تری مدح و ثنا
    ’’نسبتے نیست بذات تو بنی آدم را
    برتر از آدم و عالم تو چہ عالی نسبی‘‘

    لمحہ بھر کو نہیں ملتی غمِ عالم سے نجات
    مختصر یہ ہے کہ کاٹے سے نہیں کٹتے دن رات
    سن کے آئے ہیں کہ پیاسوں کو بٹے گی خیرات
    ’’ماہمہ تشنہ لبانیم و توئی آبِ حیات
    لطف فرما کہ زحد می گزرد تشنہ لبی‘‘

    حق نے کس نام سے بخشی تھی خطائے آدم
    کون ہے شاہِ جہاں، ختم الرسل شاہِ امم
    مجھ سا ناپاک کہاں اور کہاں خوانِ کرم
    ’’نسبت خود بسگت کردم وبس منفعلم
    زاں کہ نسبت بسگ کوے تو شد بے ادبی‘‘

    عرشِ اعظم پہ سجائی تھی تری مسندِ پاک
    سر پہ رکھتے تھے ملائک تری نعلین کی خاک
    پہنچا اس جا کہ نہ پہنچے جہاں فہم و ادراک
    ’’شب معراج عروج تو گذشت از افلاک
    بہ مقامے کہ رسیدی نرسد ہیچ نبی‘‘

    تھی بڑی شان کی خالق کو تجلی منظور
    تیرے جلووں سے مرتب ہوئی ہر آیتِ نور
    بھیجا اس جا کہ جہاں حسنِ ازل تھا مستور
    ’’ذات پاک تو دریں ملک عرب کرد ظہور
    زاں سبب آمدہ قرآں بزبان عربی‘‘

    مالکِ کوثر و تسنیم ہو یا شاہِ انام
    دور جاری رہے، چلتے رہیں متوالوں کے جام
    مے برستی رہے گھنگھور گھٹاؤں سے تمام
    ’’نخلِ بستانِ مدینہ ز تو سرسبز مدام
    زاں شدہ شہرہ آفاق بشیریں رطَبی‘‘

    در پہ اک بھیڑ نظر آتی ہے بیماروں کی
    سب کی تُو سنتا ہے، سب کہتے ہیں اپنی اپنی
    اِک مریض ان میں منؔور بھی ہے اے پیارے نبی
    ’’سیّدی اَنت حبیبی وطبیب قلبی
    آمدہ سوے تو قدؔسی پئے درماں طلبی‘‘

    مجموعہِ کلام : کلیاتِ منؔور
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1