1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

انتخاب نعت میں فنا اندر فنا ہوں تُو بقا اندر بقا ( از عبد العزیز خالؔد)

'انتخاب نعت' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالمیزاب اویس, ‏اپریل 7, 2018۔

  1. ابوالمیزاب اویس

    ابوالمیزاب اویس ــــ:ناظمِ فروغ نعت:ــــ رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    818


    میں فنا اندر فنا ہوں تُو بقا اندر بقا
    میں دغا اندر دغا ہوں تُو وفا اندر وفا

    تُو شہادت در شہادت میں گماں اندر گماں
    تُو یقیں اندر یقیں میں وسوسہ در وسوسہ

    تُو سلامت در سلامت میں فریب اندر فریب
    میں شکایت در شکایت تُو رضا اندر رضا

    تُو تجلی در تجلی میں خسوف اندر خسوف
    میں سیاہی در سیاہی تُو ضیا اندر ضیا

    میں غیاب اندر غیاب و تُو ظہور اندر ظہور
    تُو حضوری در حضوری میں غطا اندر غطا

    میں تقاضا در تقاضا تُو شکیب اندر شکیب
    میں تمنّا در تمنّا تُو غِنا اندر غِنا

    میں جہالت در جہالت تُو شعور اندر شعور
    تُو بصیرت در بصیرت میں عَمٰی اندر عَمٰی

    تُو حقیقت در حقیقت میں مجاز اندر مجاز
    میں ضلالت در ضلالت تُو ہُدٰی اندر ہُدٰی

    میں فساد اندر فساد و تُو اماں اندر اماں
    میں عداوت در عداوت تُو وِلا اندر وِلا

    تُو مَحبت در مَحبت میں ہوَس اندر ہوَس
    میں نمائش در نمائش تُو حیا اندر حیا

    تُو منافع در منافع میں زیاں اندر زیاں
    میں سفاہت در سفاہت تُو ذکا اندر ذکا

    میں عقوبت در عقوبت تُو نعیم اندر نعیم
    میں کدورت در کدورت تُو صفا اندر صفا

    تُو عزیمت در عزیمت میں شکست اندر شکست
    میں شقاوت در شقاوت تو شفا اندر شفا

    میں خزاں اندر خزاں و تو بہار اندر بہار
    میں سموم اندر سموم و تُو صبا اندر صبا

    میں زوال اندر زوال و تُو کمال اندر کمال
    تُو اصابت در اصابت میں خطا اندر خطا

    میں گدائی در گدائی تُو عطا اندر عطا
    میں بخیلی در بخیلی تُو سخا اندر سخا

    تُو مقرّب، تُو مفضّل، تُو مخصّص تُو مُبیں
    میں پراگندہ، میں راندہ، بے نوا، بے آسرا

    تُو ہے سلطانِ سلاطیں میں فقیروں کا فقیر
    تُو سرافرازِ مقامِ عَبدہُ، میں خاکِ پا

    ہے تہی طَس، طٰہٰ، کھیعص
    مجھ پہ یہ ازراہِ علمِ مِن لّدُن القا ہوا


    اظہارِ عقیدت از عبد العزیز خالؔد مرحوم