کتابوں پر تبصرے نعت نگینےپر ایک نظر

'کتابوں پر تبصرے' میں موضوعات آغاز کردہ از پیر عتیق احمد چشتی, ‏جون 2, 2017۔

  1. پیر عتیق احمد چشتی

    پیر عتیق احمد چشتی New Member رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    7
    مدحِ سیدِ کائنات علیہ افضل الصلواۃ سنتِ رب العالمین ہے۔مدحِ رسول کی کامل ترین صورت دیکھنی ہو تو قرآنِ مجید کو سمجھنے کی سعی کرنی چاہیے۔تمام انبیائے کرام نے اپنی اپنی امتوں کے سامنے اللہ کی توحید اور رسولِ کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کے فضائل و کمالات بیان کئے۔ گذشتہ آسمانی کتابیں اگرچہ اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہیں لیکن پھر بھی ان میں نبیء آخر الزماں کا تذکرہ آج بھی موجود ہے۔فقیر کی معلومات کے مطابق رسولِ پاک کی منظوم تعریف کاشرف سب سے پہلے حضرت کعب بن لوی بن غالب کو حاصل ہوا جو رسالت مآب کے اجداد میں سے ایک بزرگ شخصیت ہوئے ہیں اور ان کی وفات اور سرکارِ ختمی مرتبت کی ولادت کے درمیان تقریباً پانچ سو ساٹھ برس کا فاصلہ ہے۔ ان کےایک دو شعر غالباً مولٰنا عبد الرحمٰن جامی نے اپنی شہرہء آفاق کتاب شواہد النبوۃ میں بھی نقل کئے ہیں ۔تاریخ کی کتب میں رسول پاک کے دادا حضرت عبد المطلب ، والدہء معظمہ حضرت آمنہ ،عمینِ کریمین حضرت عباس و حضرت حمزہ علیہم السلام کے متفرق نعتیہ اشعار ملتے ہیں لیکن جس ہستی کو سب سے پہلے تسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ مدحتِ رسول پاک کا شرف حاصل ہوا وہ حضور نبیء کریم کے عمِ محترم حضرت ابو طالب علیہ السلام ہیں۔ آپ کا دیوان عشقِ رسول کا بحرِ بے کراں ہے۔ آپ کے علاوہ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام اور صحابہء کرام علیہم الرضوان کی کثیر تعداد مدحِ رسول میں رطب اللسان نظر آتی ہے۔عربی، فارسی،اردو ، پنجابی ، سرائیکی اور دنیا کی تمام زبانوں میں بلامبالغہ لاکھوں شعراء نے اس تحریکِ مہرومودت میں مقدور بھر اپنا حصہ ڈالا ہے۔اردو میں محسن کاکوروی، مولٰنا کفایت علی کافی ،مولیٰنا حسن رضا خان، امیر مینائی، علامہ اقبال، مولٰنا ظفر علی خان، مولٰنا احمد رضا خان، بیدم شاہ وارثی، مجددِ نعت حفیظ تائب، محمد اعظم چشتی ، پیر نصیر الدین نصیر، مظفر وارثی،بشیر حسین ناظم، علامہ صائم چشتی اور کئی دوسرے بڑے نام گِنوائے جا سکتے ہیں جن کے نعتیہ مجموعے بارگاہِ رسالت میں اہلِ محبت کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں،جناب نسیم سحر کی کتاب نعت نگینے بھی اسی سلسلہء نور کی ایک کڑی ہے۔
    یومِ میثاق سے اب تک توصیفِ رسولِ کریم کا سلسلہ جاری ہے اور تا ابد جاری رہے گا۔ذکرِ رسول وہ ذکر ہے جسے کبھی فنا نہیں۔ ظاہر ہے کہ وہی ذکر فانی ہو سکتا ہے جس کے ذاکر فانی ہوں۔ جس طرح سب سے بڑا ذاکرِ رسول یعنی اللہ تعالیٰ لافانی ہے اسی طور ذکرِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء بھی لافانی ہے۔
    جادۂ نعت کے راہی اعترافِ عجز کو توشۂ سفر جانتے، مانتے اور گردانتے ہیں۔درحقیقت یہی اعترافِ عجز ،علم و فن میں ترقی و برکت کا موجب ہوتا ہے۔ ساری عمر مداحیٔ رسول کرنے کے بعد بھی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ یہی کہتے ہیں کہ

    ما ان مدحت محمداً بمقالتی
    ولکن مدحت مقالتی بمحمد

    یا پیر سید نصیر الدین نصیر علیہ الرحمہ کے بقول

    حروف عجز کا اقرار کرنے لگتے ہیں
    لکھے گا نعتِ رسولِ انام کیا کوئی

    نعت نگینے میں بھی یہ اعتراف جابجا ملتا ہے جیسا کہ

    کھلیں گے اسمِ محمد کے ہم پہ معنیٰ کہاں
    نسیم ، ہم تو ابھی میم تک نہیں پہنچے

    جنابِ نسیمِ سحر نے جب مجھے نعت نگینے کا تحفہ دیا تو اتفاق سے جو شعر سب سے پہلے باصرہ نواز ہوا اس نے مجھے اشک بار کر دیا۔آپ بھی اس کیفیت میں شامل ہو جائیے

    میں دے کے حاضری ، چل تو دیا وہاں سے مگر
    صدائیں گونج رہی تھیں، نہ جا مدینے سے

    نعت گوئی کے فیوض و برکات کے حوالے سے یہ شعر ہمیشہ زندہ رہنے والا شعر ہے کہ

    ہو گیا جب سے میں پیوستہء نعت
    روز کھل جاتا ہے اک رستہء نعت

    رسولِ رحمت کے وطن یعنی مدینہء منورہ کی تعریف قریب قریب ہر نعت گو نے کی ہے اور اس کی ایک دل چسپ توجیہ حضرت مظفر وارثی یوں کرتے ہیں کہ

    مجھے کعبہ بہت پیارا ہے لیکن
    نبی کے ساتھ ہجرت کر رہا ہوں

    نعت نگینے میں مدینہء منورہ کے حوالے سےبے شمار اشعار موجود ہیں جو ہمارے نعت گو کی رسالت مآب کے وطن سے محبت پہ دال ہیں، کچھ اشعار ملاحظہ ہوں

    رفعتِ خاکِ مدینہ کچھ نہ پوچھ
    بڑھ کے ہے شمس و قمر کے سامنے

    میں مدینے کا مسافر ہوں، جدھر بھی جاؤں
    جو بھی ہے میرا سفر ،اس کی مدینہ معراج

    ہے وہی راہِ راست پر، جس کو
    راستہ یاد ہے مدینے کا
    اور تو یاد کچھ نہیں ہے نسیم
    بس پتہ یاد ہے مدینے کا

    محبت کا ایک اور خوب صورت انداز دیکھئے کہ ہمارے شاعر کو نعت گوئی کا صلہ بھی صرف مدینہء منورہ ہی سے مطلوب ہے، کہتے ہیں

    کاش تحسین کا اک لفظ عطا ہو جائے
    نعت ہونٹوں پہ ہے اور کان مدینے کی طرف

    دل چسپ ردیف ، اشعار میں خوش گوار ی کا احساس پیدا کرتی ہے۔کلامِ نسیم میں اس التزام کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ ہوں

    بے چین تھا میں اور بڑے چین میں ہوں میں
    بزمِ ثنائے سرورِ کونین میں ہوں میں
    پھر لے چلی ہے چشمِ تصور اُدھر مجھے
    حرمین میں نہ ہو کے بھی حرمین میں ہوں میں

    مطمئن کی ردیف میں تین اشعار دیکھیے۔ سطحی ذہن رکھنے والا آدمی تو ان اشعار کو غلو کی انتہا قرار دے گا لیکن جسے عرفانِ حق کی دولت ارزانی ہوئی ہو، وہ یقینا اعجازِ رسول کو قدرتِ الٰہیہ کا دوسرا روپ سمجھے گا اور جذباتِ نسیم کا ہم نوا ہو جائے گا

    نصب کرنے کے لیے جس وقت اٹھایا آپ نے
    ہو گیا ہوگا یقیناً سنگِ اسود مطمئن
    بیٹھتے تھے جس چٹائی پر وہ شاہِ دو جہاں
    تختِ شاہی سے زیادہ تھی وہ مسند مطمئن
    جانتا ہے ، کون ہے موجود اس چھتری تلے
    اس لیے رہتا ہے اتنا سبز گنبد مطمئن

    تخلص کا بامعنیٰ استعمال شعر کی خوب صورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ بہت سے نعت گوشعراء کے ہاں یہ التزام نظر آتا ہے مثلاً حضرت محمد اعظم چشتی کہتے ہیں کہ

    انبیاء جملہ عظیم اند و محمد اعظم

    یا حضرت ہلال جعفری کہتے ہیں
    ہلالؔ ماہِ درخشاں بنا، زہے قسمت
    ہلالؔ نے ترے جلووں کی روشنی دیکھی

    کلامِ نسیم میں بھی کہیں کہیں یہ خاصیت دکھائی دیتی ہے مثلاً
    ملے جو اذن تو ان بام و در کو لمس کروں
    کہ میں نسیمِ سحر کے سوا کچھ اور نہیں
    یا
    نعت کہہ کر نسیمِ سحر نے
    پھول ہر سو کھلائے ہوئے ہیں

    ہمارے ہاں جتنے بھی سعودی عرب پلٹ افراد نظر پڑتے ہیں ، مذہبی اور نظریاتی لحاظ سے ترقیٔ معکوس کا شکار ہوتے ہیں۔نسیمِ سحراکتیس برس سعودی عرب میں رہے لیکن جب ان کے کلام میں اس طرح کے اشعار پڑھنے کو ملے تو مجھے مسرت آمیز حیرانی ہوئی

    ادا تو کرتے ہیں ہم سنتِ براہیمی
    مقامِ آلِ براہیم تک نہیں پہنچے

    بہت قریب دکھائی دیا مدینے سے
    زیادہ دور نہیں کربلا مدینے سے
    یہ تجربہ ہے کہ مکے میں بھی قبول ہوئی
    کبھی جو کی ہے کوئی التجا مدینے سے

    المختصر نعت نگینے کی صورت میں ہمیں ایک بھرپور مجموعہء نعت میسر آیا ہے جس کا شایانِ شان خیر مقدم اور ایک عرصہ تک پذیرائی کی جانی چاہئے۔ خداوندِ مل جناب نسیمِ سحر کو اس کاوش کا اجرِ عظیم عطا فرمائے آمین
    Last edited: ‏جون 2, 2017

اس صفحے کو مشتہر کریں