1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم (امیر خسؔرو)

'فارسی سیکشن' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالمیزاب اویس, ‏مارچ 8, 2017۔

  1. ابوالمیزاب اویس

    ابوالمیزاب اویس ــــ:ناظمِ فروغ نعت:ــــ رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    829

    نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
    بہر سو رقصِ بسمل بود شب جائے کہ من بودم

    پری پیکر نگارِ سرو قد لالہ رخسارے
    سراپا آفتِ دل بودشب جائے کہ من بودم

    رقیباں گوش بر آواز او ور ناز من ترساں
    سخن گفتن چہ مشکل بود شب جائے کہ من بودم

    خدا خود میرِ مجلس بود اندر لامکاں خسرؔو
    محمد ﷺ شمعِ محفل بود شب جائے کہ من بودم

    (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
    • زبردست زبردست x 1
  2. ابوالمیزاب اویس

    ابوالمیزاب اویس ــــ:ناظمِ فروغ نعت:ــــ رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    829
    اردو منظوم ترجمہ

    نہیں معلوم کیسا تھا مکاں کل شب جہاں میں تھا
    کہ ہر سو رقص بسمل تھا وہاں کل شب جہاں میں تھا

    حسیں پیکر جسامت سرو سا قد پھول سے رخسار
    سراپا حسن تھا دل پر عیاں کل شب جہاں میں تھا

    اسی کی بات پر سب کان دھرتے میں ترستا تھا
    بہت مشکل تھا کچھ کہتی زباں کل شب جہاں میں تھا

    اجاگر لامکاں میں خود خدا تھا صاحب محفل
    نبی تھے شمعِ بزمِ لامکاں کل شب جہاں میں تھا
    (نثار علی اجاؔگر)


    نہیں معلوم کیسی تھی وہ منزل ، شب جہاں میں تھا
    ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا

    پری پیکر صنم تھا سرو قد ، رخسار لالہ گُوں
    سراپا وہ صنم تھا آفتِ دل ، شب جہاں میں تھا

    عدو تھے گوش بر آواز ، وہ نازاں تھا، میں ترساں
    سخن کرنا وہاں تھا سخت مشکل ، شب جہاں میں تھا

    خدا تھا میرِ مجلس لامکاں کی بزم میں خسرو
    محمد تھے وہاں پر شمع محفل، شب جہاں میں تھا
    (مسعود قریشی)
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1