1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

مولانا جامی وصلی اللہ علی نورٍ کزو شد نورہا پیدا

'فارسی سیکشن' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکرالقادری, ‏مارچ 8, 2017۔

  1. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    296
    وصلی اللہ علی نورٍ کزو شد نورہا پیدا
    زمیں باحُبِّ اُو ساکن فلک در عشق اُو شیدا
    محمد احمد ومحمود، وے را خالقش بستود
    ازو شد جودِ ہر موجود، وزو شد دید ہا بینا
    ازو در ہر تنے ذوقے، وزو در ہر دلے شوقے
    ازو در ہر زباں ذکرے، وزو در ہر سرے سودا
    اگر نامِ محمد را نیاوردے شفیع آدم
    نہ آدم یافتے توبہ، نہ نوح از غرق نجینا
    نہ ایوب از بلا راحت، نہ یوسف حشمت و جاہت
    نہ عیسٰی آں مسیحا دم، نہ موسٰی آں ید بیضا
    دو چشمِ نرگسینش را کہ مَازَاغَ الْبَصَرُ خوانند
    دو زلفِ عنبرینش را کہ وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی
    ز سرِّ سینہ اش جامی اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ برخواں
    زمعراجش چی می پرسی کہ سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی
    • زبردست زبردست x 1
  2. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    296
    وصلی الله علی نورٍ کزو شد نورہا پیدا
    زمیں باحُبِّ اُو ساکن فلک در عشق اُو شیدا
    (اور الله کی رحمت ہو اس نور پر جس سے (تمام) نور پیدا ہوئے، زمین اس کی محبت کے باعث ساکن (اور) آسمان اس کے عشق میں شیدا ہے۔)


    محمد احمد ومحمود، وے را خالقش بستود
    ازو شد جودِ ہر موجود، وزو شد دید ہا بینا
    (خالق دو جہاں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعریف محمد، احمد اور محمود جیسے اسماء سے کی ہے عالم موجودات سے جو بھی فوائد حاصل ہورہے ہیں وہ آپ صلی الله علیہ وسلم ہی کی ذاتِ گرامی کے طفیل ہیں اور اسی طرح چشم مشاہدہ کی بصیرت بھی آپ صلی الله علیہ وسلم ہی کے طفیل ہے۔)

    ازو در ہر تنے ذوقے، وزو در ہر دلے شوقے
    ازو در ہر زباں ذکرے، وزو در ہر سرے سودا
    (انہیں کے طفیل ہر تن کو ذوق (زندگی) اور ہر دل کو محبت نصیب ہوئی، انہیں کی برکت سے ہر زبان کو ذکر (خدا) کی توفیق ہوتی ہے اور ہر سر میں سودائے محبت سمایا ہے۔)

    اگر نامِ محمد را نیاوردے شفیع آدم
    نہ آدم یافتے توبہ، نہ نوح از غرق نجینا
    (اگر حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے نام کو حضرت آدم علیہ السلام شفیع نہ بناتے (تو) نہ حضرت آدم علیہ السلام توبہ کو پاتے نہ حضرت نوح علیہ السلام غرقابی سے نجات پاتے۔)

    نہ ایوب از بلا راحت، نہ یوسف حشمت و جاہت
    نہ عیسٰی آں مسیحا دم، نہ موسٰی آں ید بیضا
    (نہ حضرت ایوب علیہ السلام کو رنج و ابتلاء سے نجات ملتی اور نہ ہی حضرت یوسف علیہ السلام جاہ وحشمت سے بہرہ ور ہوتے۔ نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیحائی ملتی نہ ہی موسیٰ علیہ السلام کو ید بیضا کا معجزہ عطا ہوتا۔)

    دو چشمِ نرگسینش را کہ مَازَاغَ الْبَصَرُ خوانند
    دو زلفِ عنبرینش را کہ وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی
    (ان کی دو نرگسی آنکھیں بتلاتی ہیں کہ ہم ”مَازَاغَ الْبَصَرُ“ پڑھیں اور دوعنبریں زلفیں بتلاتی ہیں کہ وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی پڑھیں۔)

    ز سرِّ سینہ اش جامی اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ برخواں
    زمعراجش چی می پرسی کہ سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی
    (ان کے سینے کے راز سے اے جامی اَلَمْ نَشْرَحْ لَک پڑھ لے۔ ان کی معراج کا کیا پوچھنا کہ سبحان الذی اسریٰ)
    =========================
    ان اشعار کا اصل لطف تو فارسی دان احباب ہی محسوس کرسکتے ہیں تاہم تقریب فہم کے لئے ترجمہ نہایت عام فہم اور سلیس کیا گیا ہے۔
    • معلوماتی معلوماتی x 1