1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

تضمین کلام رضا چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے (تضمین نگار : پروؔیز اشرفی احمد آبادی)

'انتخابِ تضمینات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالمیزاب اویس, ‏نومبر 7, 2017۔

  1. ابوالمیزاب اویس

    ابوالمیزاب اویس ــــ:ناظمِ فروغ نعت:ــــ رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    775

    سرِ لامکاں پل میں او جانے والے
    خدا تک خدائی کو پہچانے والے
    کلامِ الٰہی کو لے آنے والے
    ’’ چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
    مرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے‘‘

    ہو روشن بیاباں یا ہو کوہِ ظلمت
    سلگتی چٹانیں ہوں یا گل کی نکہت
    ہو گیلی زمیں یا کہ سنگلاخ پربت
    ’’برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت
    بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے‘‘

    سدا تجھ پہ ابرِ کرم ہوں برستے
    بسے عطرِ جنت سے ہوں تیرے رستے
    تری خاک کو ماہ و انجم ترستے
    ’’مدینے کے خطے خدا تجھ کو رکھے
    غریبوں فقیروں کے ٹھہرانے والے‘‘

    نہیں تجھ سے محروم ہندہ ہے واللہ
    ترا میرے دل کا پرندہ ہے واللہ
    تو ہی میرا بخشش دہندہ ہے واللہ
    ’’تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
    مری چشمِ عالم سے چھپ جانے والے‘‘

    درودوں کی حاضر ہے بارات لے لو
    سلاموں کی دلکش یہ سوغات لے لو
    اے صبحِ ازل ہوں سیاہ رات لے لو
    ’’میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو
    کہ رستے میں ہیں جابجا تھانے والے‘‘

    طفیلِ سراقہ مجھے ساتھ لے لو
    نیا ہے علاقہ مجھے ساتھ لے لو
    کہ ہو کچھ افاقہ مجھے ساتھ لے لو
    ’’میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو
    کہ رستے میں ہیں جابجا تھانے والے‘‘

    جو شہرِ نبی کی طرف تو نکلنا
    لباسِ تخیل کو اپنے بدلنا
    ارے آگیا لو مدینہ سنبھلنا
    ’’حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا
    ارے سر کا موقع ہے او جانے والے‘‘

    ہرے رنگ کے یہ عماموں سے الجھیں
    کبھی بے سبب مدنی کاموں سے الجھیں
    کبھی سنیوں کے اماموں سے الجھیں
    ’’ترا کھائیں تیرے غلاموں سے الجھیں
    ہیں منکر عجب کھانے غرانے والے‘‘

    سدا ان کا دریائے عظمت بہے گا
    تُو نجدی بڑے سخت جھٹکے سہے گا
    ببانگِ دہل خود یہ قرآں کہے گا
    ’’رہے گا یونہی ان کا چرچا رہے گا
    پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے‘‘

    صدا رَبِّ ھَب لی کی کس نے لگائی؟
    گناہوں کے پربت لگے بننے رائی
    ارے یہ تو ہے آمدِ مصطفائی
    ’’اب آئی شفاعت کی ساعت اب آئی
    ذرا چین لے میرے گھبرانے والے‘‘

    دکھاوے کی لعنت سے خود کو بچانا
    عمل نیک فضلِ الٰہی بتانا
    کبھی کبر کی بانسری مت بجانا
    ’’رضؔا نفس دشمن ہے دم میں نہ آنا
    کہاں تو نے دیکھے ہیں چندرانے والے‘‘


    کلام : امام احمد رضؔا خان فاضلِ بریلوی
    تضمین نگار: پروؔیز اشرفی احمد آبادی

    ڈیسا، گجرات (ہند)
    موبائل : 00919925640729