آج دل بہت بوجھل ہے۔
چند برس پہلے اٹک میں ایک محفلِ نعت کا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔ میرے پاس دو نوجوان بیٹھے تھے، دونوں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے چراغ لیے ہوئے، دونوں نعت کی دنیا کے روشن چہرے، دونوں مسکراتے ہوئے، دونوں مستقبل کے خواب سجائے ہوئے۔ ایک طرف صہیب ثاقب تھے اور دوسری طرف شاہد سروری۔
اس وقت کس کے گمان میں تھا کہ وقت اتنی جلدی کروٹ لے گا اور یہ دونوں محبت بھرے چہرے یادوں کا حصہ بن جائیں گے۔
آج شاہد سروری کے وصال کی خبر نے دل کے زخم تازہ کر دیے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کل کی بات ہو، جب وہ محبت سے ملتے، خلوص سے بات کرتے اور نعتِ رسولِ کریم ﷺ کے ذکر سے محفل کو معطر کر دیتے تھے۔ فروغِ نعت کی ہماری ٹیم کا یہ سعادت مند، فعال، خوش اخلاق اور باصلاحیت نوجوان کچھ عرصہ سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھا، مگر اس کے چہرے کی شائستگی اور دل کی محبت کبھی کم نہ ہوئی۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
علامہ صہیب ثاقب علیہ الرحمہ کے بعد شاہد سروری کا یوں بھری جوانی میں رخصت ہو جانا اہلِ نعت کے لیے ایک اور بڑا صدمہ ہے۔ زندگی کی بے ثباتی کا احساس آج پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے ہو رہا ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر مستقبل کے منصوبے بنائے جاتے ہیں، بعض اوقات وہی اچانک ماضی کی حسین یاد بن جاتے ہیں۔
اللہ کریم اپنے محبوب ﷺ کی محبت، نعت گوئی اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی نسبت کے صدقے شاہد سروری مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے، اور انہیں اپنے خاص رحمت یافتہ بندوں میں شامل فرمائے۔
یا اللہ! صہیب ثاقب اور شاہد سروری دونوں پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرما، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما اور انہیں جنت الفردوس میں اپنے محبوب ﷺ کا قرب عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
چند برس پہلے اٹک میں ایک محفلِ نعت کا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔ میرے پاس دو نوجوان بیٹھے تھے، دونوں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے چراغ لیے ہوئے، دونوں نعت کی دنیا کے روشن چہرے، دونوں مسکراتے ہوئے، دونوں مستقبل کے خواب سجائے ہوئے۔ ایک طرف صہیب ثاقب تھے اور دوسری طرف شاہد سروری۔
اس وقت کس کے گمان میں تھا کہ وقت اتنی جلدی کروٹ لے گا اور یہ دونوں محبت بھرے چہرے یادوں کا حصہ بن جائیں گے۔
آج شاہد سروری کے وصال کی خبر نے دل کے زخم تازہ کر دیے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کل کی بات ہو، جب وہ محبت سے ملتے، خلوص سے بات کرتے اور نعتِ رسولِ کریم ﷺ کے ذکر سے محفل کو معطر کر دیتے تھے۔ فروغِ نعت کی ہماری ٹیم کا یہ سعادت مند، فعال، خوش اخلاق اور باصلاحیت نوجوان کچھ عرصہ سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھا، مگر اس کے چہرے کی شائستگی اور دل کی محبت کبھی کم نہ ہوئی۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
علامہ صہیب ثاقب علیہ الرحمہ کے بعد شاہد سروری کا یوں بھری جوانی میں رخصت ہو جانا اہلِ نعت کے لیے ایک اور بڑا صدمہ ہے۔ زندگی کی بے ثباتی کا احساس آج پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے ہو رہا ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر مستقبل کے منصوبے بنائے جاتے ہیں، بعض اوقات وہی اچانک ماضی کی حسین یاد بن جاتے ہیں۔
اللہ کریم اپنے محبوب ﷺ کی محبت، نعت گوئی اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی نسبت کے صدقے شاہد سروری مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے، اور انہیں اپنے خاص رحمت یافتہ بندوں میں شامل فرمائے۔
یا اللہ! صہیب ثاقب اور شاہد سروری دونوں پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرما، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما اور انہیں جنت الفردوس میں اپنے محبوب ﷺ کا قرب عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔