ابرارحسین نیئر
ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے گاؤں کوٹ چھجی سے تعلق رکھنے والے ابرار حسین نیئر یونین کونسل ریکارڈ کے مطابق۸/اگست۱۹۷۵ ءکو محمد لطیف کے گھرپیدا ہوئے۔تعلیمی سفر کا آغاز گاؤں کے سکول سے کیا۔زمانۂ طالب علمی کے دوران بیت بازی کے مقابلوں میں حصہ لیتے رہے۔ گھر میں موجود گلستان، بوستان کے اردو تراجم کے مطالعہ سے ادبی شعور بیدار ہوا، نیئر تخلص رکھا اور بے ترتیب الفاظ کو ترتیب دینا شروع کیا۔ میٹرک کے بعد پاکستان ایئر فورس جوائن کر لی اور بسلسلہ ملازمت کوئٹہ چلے گئے، وہاں سرائیکی کے مشہور شاعرخلیل احمد خلیل سے ملاقات ہوئی جنہوں نے شعر گوئی کی ترغیب دلائی اور حوصلہ افزائی کی۔۱۹۹۸ ءمیں کوہاٹ آئے تو یہاں کی آرٹ کونسل کے مشاعروں میں شریک ہونا شروع کیا یہاں کے دومعروف شعرا ”خیال رومانی“ اور”ریاض احمد“ سے اصلاح لی، بحور اور اوزان سیکھنے کا عمل شروع ہوا اور باقاعدگی سے شاعری کرنے لگے۔۲۰۱۵ میں(کامرہ) اٹک آمد ہوئی تو حافظ عبدالغفار واجد کی وساطت سے کامرہ کی ادبی تنظیم قلم قبیلہ سے تعلق جوڑا یہاں انہیں سجاد حسین ساجد جیسے مخلص اور تجربہ کار اہل قلم کی رہنمائی میسر ہوئی۔ مارچ ۲۰۱۶ میں فروغِ نعت اٹک کے زیر اہتمام سالانہ مشاعرہ میں شرکت کی یہاں سے ایسی تحریک ملی کہ خود کو حمد، نعت اور مناقب کے لیے مخصوص کرنے کا عہد کر لیا۔ابرار نیئر حمدو نعت کی عمدہ شاعری کرتے ہیں۔اگلے صفحات میں ان کا نمونہ کلام نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔ ادارہ فروغ نعت دعا گو ہے کہ ان کا حمدیہ اور نعتیہ کلام جلد از جلد شائع ہو کر اہل ذوق کی تسکین کے لیے فراہم ہو سکے۔۔ آمین
(سہ ماہی فروغِ نعت اٹک،شمارہ:۲۲تا۲۷، اکتوبر۲۰۱۸ تامارچ۲۰۲۰ء)
نمونہ کلام:
حمد لکھوں میں کبھی نعت پیمبر لکھوں
مجھ کو توفیق ملے پہلے سے بڑھ کر لکھوں
قل ھو اللہ احد لکھوں اگر حمد لکھوں
نعت لکھنی ہو تو پھر سورۂ کوثر لکھوں
رب کی سنت مرے ایماں کا تقاضا بھی ہے
آپ کے دشمنِ نا پاک کو ابتر لکھوں
پھر تو کردار کی دنیا میں کروں زیست بسر
آپ کے اسوۂ کامل کو جو رہبر لکھوں
مجھ کو بھی تاجِ غلامی سے نوازا جائے
خود کو میں بھی تو مقدر کا سکندر لکھوں
ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے گاؤں کوٹ چھجی سے تعلق رکھنے والے ابرار حسین نیئر یونین کونسل ریکارڈ کے مطابق۸/اگست۱۹۷۵ ءکو محمد لطیف کے گھرپیدا ہوئے۔تعلیمی سفر کا آغاز گاؤں کے سکول سے کیا۔زمانۂ طالب علمی کے دوران بیت بازی کے مقابلوں میں حصہ لیتے رہے۔ گھر میں موجود گلستان، بوستان کے اردو تراجم کے مطالعہ سے ادبی شعور بیدار ہوا، نیئر تخلص رکھا اور بے ترتیب الفاظ کو ترتیب دینا شروع کیا۔ میٹرک کے بعد پاکستان ایئر فورس جوائن کر لی اور بسلسلہ ملازمت کوئٹہ چلے گئے، وہاں سرائیکی کے مشہور شاعرخلیل احمد خلیل سے ملاقات ہوئی جنہوں نے شعر گوئی کی ترغیب دلائی اور حوصلہ افزائی کی۔۱۹۹۸ ءمیں کوہاٹ آئے تو یہاں کی آرٹ کونسل کے مشاعروں میں شریک ہونا شروع کیا یہاں کے دومعروف شعرا ”خیال رومانی“ اور”ریاض احمد“ سے اصلاح لی، بحور اور اوزان سیکھنے کا عمل شروع ہوا اور باقاعدگی سے شاعری کرنے لگے۔۲۰۱۵ میں(کامرہ) اٹک آمد ہوئی تو حافظ عبدالغفار واجد کی وساطت سے کامرہ کی ادبی تنظیم قلم قبیلہ سے تعلق جوڑا یہاں انہیں سجاد حسین ساجد جیسے مخلص اور تجربہ کار اہل قلم کی رہنمائی میسر ہوئی۔ مارچ ۲۰۱۶ میں فروغِ نعت اٹک کے زیر اہتمام سالانہ مشاعرہ میں شرکت کی یہاں سے ایسی تحریک ملی کہ خود کو حمد، نعت اور مناقب کے لیے مخصوص کرنے کا عہد کر لیا۔ابرار نیئر حمدو نعت کی عمدہ شاعری کرتے ہیں۔اگلے صفحات میں ان کا نمونہ کلام نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔ ادارہ فروغ نعت دعا گو ہے کہ ان کا حمدیہ اور نعتیہ کلام جلد از جلد شائع ہو کر اہل ذوق کی تسکین کے لیے فراہم ہو سکے۔۔ آمین
(سہ ماہی فروغِ نعت اٹک،شمارہ:۲۲تا۲۷، اکتوبر۲۰۱۸ تامارچ۲۰۲۰ء)
نمونہ کلام:
حمد لکھوں میں کبھی نعت پیمبر لکھوں
مجھ کو توفیق ملے پہلے سے بڑھ کر لکھوں
قل ھو اللہ احد لکھوں اگر حمد لکھوں
نعت لکھنی ہو تو پھر سورۂ کوثر لکھوں
رب کی سنت مرے ایماں کا تقاضا بھی ہے
آپ کے دشمنِ نا پاک کو ابتر لکھوں
پھر تو کردار کی دنیا میں کروں زیست بسر
آپ کے اسوۂ کامل کو جو رہبر لکھوں
مجھ کو بھی تاجِ غلامی سے نوازا جائے
خود کو میں بھی تو مقدر کا سکندر لکھوں
Last edited: