• فروغ نعت پر رجسٹر ہونے کا طریقہ

    خزف ہوں اور جواہر کی کائنات میں ہوں   ❃   زہے نصیب کہ بزم فروغِ نعت میں ہوں

    محترم/محترمہ۔۔! السلام علیکم

    ہم بزم فروغ نعت میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اس بزم میں رجسٹر ہو کر فروغ نعت کے کارِ خیر میں بھرپور حصہ لیں گے۔ اگر رجسٹریشن میں دشواری ہو تو ہماری رہنمائی ملاحظہ فرمائیں۔

نعت گو شاعر احسان بن مجید( احسان الٰہی) فتح ضلع اٹک، حال مقیم اٹک

فروغ نعت

Administrator
Staff member
احسان بن مجید( احسان الٰہی)

شاعر اور افسانہ نویس احسان بن مجید کا اصل نام احسان الٰہی ہے وہ 20/ فروری 1950 ءکو فتح جنگ میں عبدالمجید کے گھر پیدا ہوئے ۔بچپن میں ہی والد گرامی کے ہمراہ اٹک منتقل ہو گئے اور یہاں گورنمنٹ مڈل اسکول سے مڈل اور 1965 ءمیں گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔بعد ازاں وہ گورنمنٹ کالج اٹک میں داخل ہوئے اور۱۹۶۷ء میں یہاں سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔۱۹۶۹ءمیں فوج میں بھرتی ہو گئے مگر زیادہ عرصہ اس ملازمت میں نہ رہے اور 1979 ءمیں وہ بہ سلسلہ روزگار سعودی عرب چلے گئے، جہاں دس سال تک کام کیا۔ واپس آ کر ایک پرائیویٹ ادارے میں اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ احسان الہی نے طالب علمی کے زمانے میں ہی شاعری کا آغاز کیا اور احسان الہی احسن کا قلمی نام اختیار کیا۔ شاعری میں استاد شاکر بیگ (فتح جنگ) سے اصلاح لی۔ بعدزاں افسانے کی طرف نکل آئے اور وقار بن الہی کے زیر اثر احسان بن مجید کا قلمی نام اختیار کر کے افسانے لکھنے لگے ان کے افسانے اردو کے معتبر اور مقبول ادبی رسائل و جرائد میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوں کی دو کتابیں موم کا پتھر( 2012) اورآنکھوں کے ساگر( 2014) شائع ہو چکی ہیں ۔تاہم ان کا کوئی شعری مجموعہ ابھی تک شائع نہیں ہو سکا۔غزلیں، نظمیں، نعتیں، مناقب، شخصی خاکے،کتابوں پر تبصرے اور دیگر ادبی مضامین و مقالات منتظر اشاعت ہیں۔اٹک کے معروف افسانہ نگار ارشاد علی کے صاحبزادے”احمد“ نے”احسان بن مجید کی ادبی خدمات“ کے عنوان سے مبسوط مقالہ لکھ کر۲۰۲۳ء میں ایم فل کی سند حاصل کی۔

نمونہءکلام
جب کن کا ارادہ رب نے کیا پہلے تھا سنوارا احمد کو
پھر عرشِ بریں پر اک شب میں یزداں نے بلایا احمد کو
مرسل تو بہت تھے دنیا میں،آقا کی شان کے کیا کہنے
قرآن کے تحفے سے پہلے محبوب بنایا احمد کو
الفاظ کا سرمایہ کم ہے مدحت کی نہایت کوئی نہیں
لا ریب کہ عرش کے مالک نےکیا خوب سجایا احمد کو
دو لخت قمر کا ہو جانا اعجاز ہے صاحبِ قرآں کا
دے ڈالا خدا نے اک ایسا انگلی کا اشارہ احمد کو
کیوں رشک حلیمہ نہ آئے دنیا کو نصیبوں پر تیرے
تو نے تو مدینہ دیکھ لیا جب گود سمیٹا احمد کو
ہم ایسے نبی کی امت ہیں دنیا میں نہیں جس کا سایا
ہے رب نے دیا احسن ایسا اک نور سراپا احمد کو

حوالہ: نعت گویان اٹک مرتبہ شاکرالقادری، شائع کردہ : اکادمی فروغ نعت اٹک
 
Last edited:
Top