احمد دین، مولوی
مولوی احمد دین کا تعلق اٹک کے مشہور کھٹڑ قبیلہ سے ہے۔ ۱۲۷۷ ہجری بمطابق ۱۸۶۰ء میں پیدا ہوئے۔ مولد و منشا پنڈ سلطانی تحصیل جنڈ ضلع اٹک ہے۔ آپ پنڈ سلطانی کے مشہور شاعر ذوالفقارعلی خنجر کے والد ہیں۔ مولوی احمد دین کے والد گرامی کا نام سردار نور خان اور جدِ کلاں کا نام رحمت االلہ خان تھا۔مولوی احمد دین کے دو بڑے بھائی مولانا فتح محمد اور مولانا سکندر دین دونوں بلند پایہ عالم تھے۔ مولانا سکندر دین سیال شریف کے خلیفۂ مجاز بھی تھے۔ مولوی احمد دین نے ابتدائی دینی تعلیم مولانا عالم دین سکنہ تھٹہ تحصیل جنڈ کی درسگاہ سے حاصل کی وہیں سے حفظ قرآن بھی مکمل کیا۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی مولانا سکندر دین سے بھی تعلیم حاصل کی۔ ان کے دوسرے بڑے بھائی مولانا فتح محمد اپنے مرشد کے حکم پر علی پور کےایک قصبہ کھروڑا منتقل ہوگئے تھے اور وہیں مسند ارشاد بچھائی تھی۔ مولوی احمد دین کچھ عرصہ کھوڑا میں ان کے پاس بھی رہے، فتح جنگ کے قاضی خاندان کی درس گاہ میں بھی پڑھتے رہے ہیں، وہاں قاضی معتصم ان کے استاد تھے۔ خاندان قاضیاں کی درس گاہ میں تحصیل علم کے دوران ان کی ملاقات سائیں حاضر حضور سے بھی رہی۔ مکھڈ شریف کے پیر غلام عباس سے ان کے گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ ملک خاکی جان والیٔ کھنڈا سے بھی دوستانہ تھا۔اسی طرح دھریک کے رئیس سردار احمد بخش سے بھی یگانگت کا رشتہ تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت انگریزوں نے پیرآف مکھڈ غلام عباس کو دلی بلایا تھا تواس سفر میں مولوی احمد دین بھی ان کے ہم راہ تھے۔ ایک روایت کے مطابق مولوی احمد دین نے فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان صاحب سے بھی ملاقات کی تھی۔ واپس آکرمانسہرہ میں لکڑی کی تجارت سے وابستہ رہے۔ یہاں انہوں نے اپنی خوش اخلاقی اور علم و فضل سے ایک وسیع حلقہ بنا لیا تھا۔
پانچ صفر المظفر 1368 ہجری بمطابق ۸/ دسمبر ۱۹۴۸ کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور اپنے خاندانی قبرستان میں اپنے جد امجد رحمت اللہ خان اور اپنے بڑے بھائی مولوی سکندردین کے پہلو میں دفن ہوئے۔ ان کی وفات پر ان کے بیٹے ذوالفار علی خنجر نے مرثیہ لکھا۔ حنیف برہانی نے بھی ان کی وفات پر ایک تعزیتی نظم لکھی۔
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را۔
نمونۂکلام:۔
مرقع صانعِ قدرت کے اک زیر عمل آیا
خیالِ آفرینش میں خیال اک بر محل آیا
محبت کی ہمہ گیری کا اک پہلو نکل آیا
کہ خود نورِ مجسم پیکر انساں میں ڈھل آیا
دلِ حسنِ مجسم ہی ہوا پہلے فدا اس پر
سلام اس پر درود اس پر دعا اس پر ثنا اس پر
جہانِ رنگ و بو میں منتقل کی خاک کی صورت
ہواؤں کی ملاوٹ سے بنی افلاک کی صورت
ملائک کو دکھائی پھر شہِ لولاک کی صورت
مہ و خورشید نے دیکھی رسولِ پاک کی صورت
سجائی بزمِ امکاں اس کی بینائی کے صدقے میں
ہوئی تخلیق دنیا اس کی تنہائی کے صدقے میں
مشام جاں سے اس کی حسنِ گلزار جہاں نکھرا۱
حرم تاباں ہوا اور چہرۂ کون و مکاں نکھراا
جبیں کے نور سے چمکے ستارے آسماں نکھراا
ضیائے حسن سے حسنِ مکان و لا مکاں نکھراا
نظامِ کائناتِ دھر پر ہستی کا رنگ آیا
بہاروں پر شباب اور عالمِ مستی کا رنگ آیا
پھر اس پر رازِ کائنات و چرخِ عنبریں کھولے
نظامِ محفلِ امکاں کے اسرارِ خفی کھولے
رموزِ ظاہر و باطن طلسمِ زندگی کھولے
غرض مشکل سے مشکل جتنے عقدے تھےسبھی کھولے
فلاح نوعِ انساں کے لیے پیغمبری بخشی
بڑھائی شان اتنی انبیاء کی سروری بخشی
کلام اپنا دیا بخشی شریعت ایسی لافانی
ہدایت کے لیے کردی عطا وہ شمع نورانی
کہ غیراللہ کو جس کی جلا دیتی ہے تابانی
نبی ایسا کہ نبیوں میں نہیں جس کا کوئی ثانی
ہوئی ختمِ نبوت کی جو تھی حجت تمام اس پر
درود اس پردعا اس پر ثنا اس پر سلام اس پر
وہی ہے سرورِ کونین اور والی جہانوں کا
وہی براق کا راکب وہ سیاح آسمانوں کا
وہ جس کے نام پر ہی آسرا ہے ناتوانوں کا
کہ دامن اس کا مسکن ہے غریبوں بے ٹھکانوں کا
وہ جس کا گوشۂ چشمِ کرم فضلِ الٰہی ہے
غلامی جس کے در کی، خواجگی کیا بادشاہی ہے
غلاموں کو وہ آزادی کی نعمت بانٹنے والا
غریبوں میں شہنشاہوں کی دولت بانٹنے والا
گنہگاروں میں وہ سامانِ جنت بانٹنے والا
وہ محبوبِ خدا اللہ کی رحمت بانٹنے والا
جہاں نبیوں کو بھی لاحق ضرورت ہے سہارے کی
وہاں ہے منتظر رحمت فقط ان کے اشارے کی
نبی ایسا نبوت کے ہوئے خود نکتہ چیں شاہد
رسالت کی صداقت پر فلک شاہد زمیں شاہد
لبِ جبریل شاہد منظرِ فتح مبیں شاہد
اور اس پر خاتمِ ختمِ نبوت کا نگیں شاہد
کھلی ہیں حشر میں شانِ شفاعت کی حدود اس پر
سلام اس پردعا اس پر ثنا اس پر درود اس پر
حوالہ:۔ نعت گویانِ اٹک۔ مرتبہ: سید شاکرالقادری۔ ناشر اکادمی فروغ نعت اٹک پاکستان
مولوی احمد دین کا تعلق اٹک کے مشہور کھٹڑ قبیلہ سے ہے۔ ۱۲۷۷ ہجری بمطابق ۱۸۶۰ء میں پیدا ہوئے۔ مولد و منشا پنڈ سلطانی تحصیل جنڈ ضلع اٹک ہے۔ آپ پنڈ سلطانی کے مشہور شاعر ذوالفقارعلی خنجر کے والد ہیں۔ مولوی احمد دین کے والد گرامی کا نام سردار نور خان اور جدِ کلاں کا نام رحمت االلہ خان تھا۔مولوی احمد دین کے دو بڑے بھائی مولانا فتح محمد اور مولانا سکندر دین دونوں بلند پایہ عالم تھے۔ مولانا سکندر دین سیال شریف کے خلیفۂ مجاز بھی تھے۔ مولوی احمد دین نے ابتدائی دینی تعلیم مولانا عالم دین سکنہ تھٹہ تحصیل جنڈ کی درسگاہ سے حاصل کی وہیں سے حفظ قرآن بھی مکمل کیا۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی مولانا سکندر دین سے بھی تعلیم حاصل کی۔ ان کے دوسرے بڑے بھائی مولانا فتح محمد اپنے مرشد کے حکم پر علی پور کےایک قصبہ کھروڑا منتقل ہوگئے تھے اور وہیں مسند ارشاد بچھائی تھی۔ مولوی احمد دین کچھ عرصہ کھوڑا میں ان کے پاس بھی رہے، فتح جنگ کے قاضی خاندان کی درس گاہ میں بھی پڑھتے رہے ہیں، وہاں قاضی معتصم ان کے استاد تھے۔ خاندان قاضیاں کی درس گاہ میں تحصیل علم کے دوران ان کی ملاقات سائیں حاضر حضور سے بھی رہی۔ مکھڈ شریف کے پیر غلام عباس سے ان کے گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ ملک خاکی جان والیٔ کھنڈا سے بھی دوستانہ تھا۔اسی طرح دھریک کے رئیس سردار احمد بخش سے بھی یگانگت کا رشتہ تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت انگریزوں نے پیرآف مکھڈ غلام عباس کو دلی بلایا تھا تواس سفر میں مولوی احمد دین بھی ان کے ہم راہ تھے۔ ایک روایت کے مطابق مولوی احمد دین نے فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان صاحب سے بھی ملاقات کی تھی۔ واپس آکرمانسہرہ میں لکڑی کی تجارت سے وابستہ رہے۔ یہاں انہوں نے اپنی خوش اخلاقی اور علم و فضل سے ایک وسیع حلقہ بنا لیا تھا۔
پانچ صفر المظفر 1368 ہجری بمطابق ۸/ دسمبر ۱۹۴۸ کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور اپنے خاندانی قبرستان میں اپنے جد امجد رحمت اللہ خان اور اپنے بڑے بھائی مولوی سکندردین کے پہلو میں دفن ہوئے۔ ان کی وفات پر ان کے بیٹے ذوالفار علی خنجر نے مرثیہ لکھا۔ حنیف برہانی نے بھی ان کی وفات پر ایک تعزیتی نظم لکھی۔
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را۔
نمونۂکلام:۔
مرقع صانعِ قدرت کے اک زیر عمل آیا
خیالِ آفرینش میں خیال اک بر محل آیا
محبت کی ہمہ گیری کا اک پہلو نکل آیا
کہ خود نورِ مجسم پیکر انساں میں ڈھل آیا
دلِ حسنِ مجسم ہی ہوا پہلے فدا اس پر
سلام اس پر درود اس پر دعا اس پر ثنا اس پر
جہانِ رنگ و بو میں منتقل کی خاک کی صورت
ہواؤں کی ملاوٹ سے بنی افلاک کی صورت
ملائک کو دکھائی پھر شہِ لولاک کی صورت
مہ و خورشید نے دیکھی رسولِ پاک کی صورت
سجائی بزمِ امکاں اس کی بینائی کے صدقے میں
ہوئی تخلیق دنیا اس کی تنہائی کے صدقے میں
مشام جاں سے اس کی حسنِ گلزار جہاں نکھرا۱
حرم تاباں ہوا اور چہرۂ کون و مکاں نکھراا
جبیں کے نور سے چمکے ستارے آسماں نکھراا
ضیائے حسن سے حسنِ مکان و لا مکاں نکھراا
نظامِ کائناتِ دھر پر ہستی کا رنگ آیا
بہاروں پر شباب اور عالمِ مستی کا رنگ آیا
پھر اس پر رازِ کائنات و چرخِ عنبریں کھولے
نظامِ محفلِ امکاں کے اسرارِ خفی کھولے
رموزِ ظاہر و باطن طلسمِ زندگی کھولے
غرض مشکل سے مشکل جتنے عقدے تھےسبھی کھولے
فلاح نوعِ انساں کے لیے پیغمبری بخشی
بڑھائی شان اتنی انبیاء کی سروری بخشی
کلام اپنا دیا بخشی شریعت ایسی لافانی
ہدایت کے لیے کردی عطا وہ شمع نورانی
کہ غیراللہ کو جس کی جلا دیتی ہے تابانی
نبی ایسا کہ نبیوں میں نہیں جس کا کوئی ثانی
ہوئی ختمِ نبوت کی جو تھی حجت تمام اس پر
درود اس پردعا اس پر ثنا اس پر سلام اس پر
وہی ہے سرورِ کونین اور والی جہانوں کا
وہی براق کا راکب وہ سیاح آسمانوں کا
وہ جس کے نام پر ہی آسرا ہے ناتوانوں کا
کہ دامن اس کا مسکن ہے غریبوں بے ٹھکانوں کا
وہ جس کا گوشۂ چشمِ کرم فضلِ الٰہی ہے
غلامی جس کے در کی، خواجگی کیا بادشاہی ہے
غلاموں کو وہ آزادی کی نعمت بانٹنے والا
غریبوں میں شہنشاہوں کی دولت بانٹنے والا
گنہگاروں میں وہ سامانِ جنت بانٹنے والا
وہ محبوبِ خدا اللہ کی رحمت بانٹنے والا
جہاں نبیوں کو بھی لاحق ضرورت ہے سہارے کی
وہاں ہے منتظر رحمت فقط ان کے اشارے کی
نبی ایسا نبوت کے ہوئے خود نکتہ چیں شاہد
رسالت کی صداقت پر فلک شاہد زمیں شاہد
لبِ جبریل شاہد منظرِ فتح مبیں شاہد
اور اس پر خاتمِ ختمِ نبوت کا نگیں شاہد
کھلی ہیں حشر میں شانِ شفاعت کی حدود اس پر
سلام اس پردعا اس پر ثنا اس پر درود اس پر
حوالہ:۔ نعت گویانِ اٹک۔ مرتبہ: سید شاکرالقادری۔ ناشر اکادمی فروغ نعت اٹک پاکستان