احمد عقیل (محمد عقیل)
اصل نام محمد عقیل ہے، احمد عقیل کے قلمی نام سے لکھتے ہیں۔تحصیل حضرو ضلع اٹک کے گاؤں ”شینکہ“ میں ۱۵/نومبر۱۹۸۷ء کومحمدظہیر کے گھر پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز محلے کی مسجد سے ہوا۔ والد صاحب سرکاری سکول میں ٹیچر تھے انہی کی نگرانی میں مڈل تک تعلیم حاصل کی۔بعد ازاں مدرسہ اظہارالعلوم جلالیہ سے حفظ قرآن مکمل کیا۔جامعہ قاسمیہ انوارالقرآن نرتوپہ سے تجوید کا کورس مکمل کیااوردارالعلوم تعلیم الاسلام ویسہ میں درس نظامی کے لیے داخلہ لے لیا، ایک سال تک یہاں زیر تعلیم رہنے کے بعددارالعلوم نصیریہ غورغشتی چلے گئے جہاں چھ سال تک زیر تعلیم رہے۔ آخری دوسالوں میں دورۂ حدیث کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہورکا رخ کیا لیکن ناگزیر طبی وجوہات کی بنا پر ایک سال بعد ہی واپس آگئے۔ ۲۰۱۲ء میں دارالعلوم نصیریہ سے وفاق المدارس العربیہ ملتان کے تحت درس نظامی کی تکمیل ہوئی۔تعلیم مکمل ہونے کے بعد ایک سال تک غورغشتی اور ایک سال اپنے گاؤں میں تدریسی خدمات انجام دیں،گزشتہ دس سالوں سے غازی، ہری پور میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزارہ اسکول اینڈ کالج غازی میں بطور اردو لیکچرار تعینات ہیں۔تربیلہ پریس کلب کے رکن کے طور پر صحافتی خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔ شاعری کا ذوق بچپن سے ہے، اسامہ سرسری، راحل بخاری،پارس بخاری اور پروفیسر رانا غلام محی الدین اس فن میں اُن کے استاد ہیں۔ 2017ء سے تا حال مستقل طور شاعری کر رہے ہیں اصناف سخن میں غزل، نعت اور مناقب شامل ہیں۔ ان کی کتاب
”صراطِ سخن“کے دو ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس کتاب میں شاعری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور نو آموز لکھاریوں کی آسان فہم راہ نمائی کا سامان کیا گیا ہے۔علم عروض، علم بیان،علم بدیع، معائب سخن، اصلاح سخن وغیرہ موضوعات کو زیر قلم لایا گیا ہے۔ادبی تنظیم ”بہار نو“ حضرو کے بانی اراکین میں سے ہیں۔اب اسی تنظیم کےنائب صدر بھی ہیں۔چھچھ چوراسی تنظیم کی طرف سے توقیر علی زئی ایوارڈ اور منظور عارف ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔
نمونہ کلام:ـ
بیٹھا ہوں با ادب کہ اب امکانِ نعت ہے
آنسو نہیں عقیل! یہ بارانِ نعت ہے
اول سے لے کے ناس تلک سوچتا ہوں میں
قرآن سامنے ہے کہ دیوانِ نعت ہے
قلب و نظر کی پاکی ضروری ہے نعت میں
ورنہ تُو کس طرح کا سخن دانِ نعت ہے
ان کے بغیر عالمِ اسباب تھا عبث
اِس دھر کا وجود بھی عنوانِ نعت ہے
جب”راعنا“ پکارنا جائز نہیں رہا
ہر لفظ دیکھ بھال! یہ میدانِ نعت ہے
پھیلی ہوئی چہار سو خوشبو ہے نعت کی
خوش بخت ہوں کہ مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے
جب جب پڑھوں درود، نئے شعر ہوں عطا
صَلُّواعَلَی الرسول بھی اعلانِ نعت ہے
اصل نام محمد عقیل ہے، احمد عقیل کے قلمی نام سے لکھتے ہیں۔تحصیل حضرو ضلع اٹک کے گاؤں ”شینکہ“ میں ۱۵/نومبر۱۹۸۷ء کومحمدظہیر کے گھر پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز محلے کی مسجد سے ہوا۔ والد صاحب سرکاری سکول میں ٹیچر تھے انہی کی نگرانی میں مڈل تک تعلیم حاصل کی۔بعد ازاں مدرسہ اظہارالعلوم جلالیہ سے حفظ قرآن مکمل کیا۔جامعہ قاسمیہ انوارالقرآن نرتوپہ سے تجوید کا کورس مکمل کیااوردارالعلوم تعلیم الاسلام ویسہ میں درس نظامی کے لیے داخلہ لے لیا، ایک سال تک یہاں زیر تعلیم رہنے کے بعددارالعلوم نصیریہ غورغشتی چلے گئے جہاں چھ سال تک زیر تعلیم رہے۔ آخری دوسالوں میں دورۂ حدیث کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہورکا رخ کیا لیکن ناگزیر طبی وجوہات کی بنا پر ایک سال بعد ہی واپس آگئے۔ ۲۰۱۲ء میں دارالعلوم نصیریہ سے وفاق المدارس العربیہ ملتان کے تحت درس نظامی کی تکمیل ہوئی۔تعلیم مکمل ہونے کے بعد ایک سال تک غورغشتی اور ایک سال اپنے گاؤں میں تدریسی خدمات انجام دیں،گزشتہ دس سالوں سے غازی، ہری پور میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزارہ اسکول اینڈ کالج غازی میں بطور اردو لیکچرار تعینات ہیں۔تربیلہ پریس کلب کے رکن کے طور پر صحافتی خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔ شاعری کا ذوق بچپن سے ہے، اسامہ سرسری، راحل بخاری،پارس بخاری اور پروفیسر رانا غلام محی الدین اس فن میں اُن کے استاد ہیں۔ 2017ء سے تا حال مستقل طور شاعری کر رہے ہیں اصناف سخن میں غزل، نعت اور مناقب شامل ہیں۔ ان کی کتاب
”صراطِ سخن“کے دو ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس کتاب میں شاعری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور نو آموز لکھاریوں کی آسان فہم راہ نمائی کا سامان کیا گیا ہے۔علم عروض، علم بیان،علم بدیع، معائب سخن، اصلاح سخن وغیرہ موضوعات کو زیر قلم لایا گیا ہے۔ادبی تنظیم ”بہار نو“ حضرو کے بانی اراکین میں سے ہیں۔اب اسی تنظیم کےنائب صدر بھی ہیں۔چھچھ چوراسی تنظیم کی طرف سے توقیر علی زئی ایوارڈ اور منظور عارف ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔
نمونہ کلام:ـ
بیٹھا ہوں با ادب کہ اب امکانِ نعت ہے
آنسو نہیں عقیل! یہ بارانِ نعت ہے
اول سے لے کے ناس تلک سوچتا ہوں میں
قرآن سامنے ہے کہ دیوانِ نعت ہے
قلب و نظر کی پاکی ضروری ہے نعت میں
ورنہ تُو کس طرح کا سخن دانِ نعت ہے
ان کے بغیر عالمِ اسباب تھا عبث
اِس دھر کا وجود بھی عنوانِ نعت ہے
جب”راعنا“ پکارنا جائز نہیں رہا
ہر لفظ دیکھ بھال! یہ میدانِ نعت ہے
پھیلی ہوئی چہار سو خوشبو ہے نعت کی
خوش بخت ہوں کہ مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے
جب جب پڑھوں درود، نئے شعر ہوں عطا
صَلُّواعَلَی الرسول بھی اعلانِ نعت ہے