• فروغ نعت پر رجسٹر ہونے کا طریقہ

    خزف ہوں اور جواہر کی کائنات میں ہوں   ❃   زہے نصیب کہ بزم فروغِ نعت میں ہوں

    محترم/محترمہ۔۔! السلام علیکم

    ہم بزم فروغ نعت میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اس بزم میں رجسٹر ہو کر فروغ نعت کے کارِ خیر میں بھرپور حصہ لیں گے۔ اگر رجسٹریشن میں دشواری ہو تو ہماری رہنمائی ملاحظہ فرمائیں۔

نعت گو شاعر اخترشادانی (مولانا محمداذکارالحق مرحوم) اٹک

فروغ نعت

Administrator
Staff member
اخترشادانی (مولانا محمداذکارالحق )

اختر شادانی کا اصل نام محمد اذکار الحق صدیقی ہے۔ آپ مشرقی پنجاب کے شہر رہتک میں مولانا محمد اسرار الحق المعروف بہ”طوطی ہند“ کے گھر پیدا ہوئے۔ طوطیِ ہند مولانا اسرارُالحق صدیقی رہتکی کی پیدائش 1296ھ کو ٹونک ہند میں ہوئی اور 30جُمادَی الاُولیٰ 1373ھ کو کراچی میں وصال فرمایا،اور وہیں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ ایک بلند پایہ عالمِ دین، بہترین خطیب ،واعظ اور صاحبِ دیوان شاعرتھے۔ ان کے بارے میں خواجہ حسن نظامی اپنے روزنامچے [جو ماہنامہ ”منادی“ میں چھپتے رہے ہیں ] میں لکھتے ہیں:
” مولانا اسرارالحق صاحب طوطیٔ ہند سے بھی دعوت میں ملاقات ہوئی۔ سالہا سال کے بعد ملے خوب معانقہ ہوا۔ میرے پرانے ملنے والے ہیں۔ آج کل رہتک میں رہتے ہیں۔ ان کا وعظ اور ان کی تقریر اوران کا لحن بہت مقبول ہے اور مسلمان ان کو طوطیٔ ہند کہتے ہیں۔ نہایت گورے چٹے خوبصورت عالم ہیں۔ آج میں نے دیکھا بال سفید ہوگئے ہیں۔ بوڑھے معلوم ہوتے ہیں۔ حالانکہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں“۔
مولانا اختر شادانی کی تاریخ ولادت ۳ /مارچ۱۹۱۵ء ہے آپ نے عربی فارسی کی تعلیم اپنے دادا حاجی انصار الحق سے حاصل کی۔ بعد ازاں جامعہ پنجاب سے منشی فاضل ،ادیب فاضل اور میٹرک کے امتحانات پاس کیے۔ اس کے بعد میوسکو آپ آرٹس لاہور سے کارپینٹری اور ڈرائنگ کا ڈپلومہ اور محکمہ تعلیم پنجاب سے او۔ ٹی کی سند حاصل کی۔پبلک ہا ئی سکول احمد گڑھ خالصہ ہائی سکول جالندھر، گورنمنٹ ہائی سکول کہوٹہ، گورنمنٹ ہائی سکول حسن ابدال اور گورنمنٹ پائلٹ سکینڈری سکول، اٹک میں تدریس کے فرائض انجام ادا کیے اور ۱۹۷۵ء میں سبکدوش ہوئے۔ملازمت سے فراغت کے بعدگھر میں بچوں کو پڑھایا کرتے تھے۔ بہت باغ و بہار طبیعت کے مالک تھے۔ آخری عمر میں کراچی چلے گئے اور وہیں وفات پائی۔
مولانا اختر شادانی نے ۱۹۳۵ء میں شاعری کا آغاز کیا۔ حضرت اولاد حسین شاداں بلگرامی آپ کے استاد ہیں۔ کچھ عرصہ آپ حضرت احسان دانش سے بھی اصلاح لیتے رہے۔ آپ اردو فارسی کے پر گو شاعر تھے بے شمار غزلیں ،نعتیں اور قصیدے لکھے مگر ہنوز آپ کا کوئی مجموعہ کلام شائع نہیں ہو سکا۔ آپ مجلس ادارات علمیہ اور محفل شعرو ادب کے اساسی رکن تھے۔محفل شعروادب کے طرحی نعتیہ مشاعروں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔چونکہ ان کے کلام تک رسائی ممکن نہ ہوسکی اس لیے محفل شعروادب کے ریکارڈ سے رجوع کرنا پڑا۔ محفل شعرو ادب اٹک کے معتمد جناب نذر صابری نے محفل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے نعتیہ طرحی مشاعروں[۱۹۵۷ء تا۲۰۰۶ء] کو مرتب کر کے ”ارمغانِ اتک بحضورِ سیدِ لولاکؐ“ کے نام سے۲۰۰۹ء میں شایع کیا۔مولانا اختر شادانی مرحومؒ کا نمونہ کلام اسی ارمغان سے نقل کیا گیا ہے۔
نمونۂ کلام:۔

ادنیٰ سے اک اشارۂ انگشت پاک سے
جس نے کیا تھا چاند دوپارہ تمہی تو ہو
وہ جس نے اپنے شانۂ دانش سے بے گماں
فطرت کے گیسوؤں کو سنوارا تمھی تو ہو
وہ بحرِ لطف و جود و عطا و نوازشات
جس کا نہیں ہے کوئی کنارہ تمھی تو ہو
۔۔۔۔۔
محفلِ میلاد میں ان کے ثنا خواں آگئے
کاروانِ معرفت کے سب حدی خواں آگئے
باغِ عالم میں چلی بادِ بہاری جس گھڑی
ہم لیے سر میں ہوائے دشتِ جاناں آگئے
سمجھا عاشق نے گلِ تر باغِ جنت کا انہیں
راہِ طیبہ میں اگر خارِ مغیلاں آگئے
پھر دلوں میں گنبدِ خضریٰ کا نقشہ پھر گیا
”پھر لبوں پر آستاں بوسی کے ارماں آگئے“
قصرِ استبداد اک دم لڑکھڑا کر گر پڑا
جب غلام ان کے، لیے شمشیر و قرآں آگئے
۔۔۔۔
 
Top