• فروغ نعت پر رجسٹر ہونے کا طریقہ

    خزف ہوں اور جواہر کی کائنات میں ہوں   ❃   زہے نصیب کہ بزم فروغِ نعت میں ہوں

    محترم/محترمہ۔۔! السلام علیکم

    ہم بزم فروغ نعت میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اس بزم میں رجسٹر ہو کر فروغ نعت کے کارِ خیر میں بھرپور حصہ لیں گے۔ اگر رجسٹریشن میں دشواری ہو تو ہماری رہنمائی ملاحظہ فرمائیں۔

نعت گو شاعر اسد حضروی (خواجہ محمد خان اسد) حضرو اٹک

فروغ نعت

Administrator
Staff member
اسد حضروی( خواجہ محمد خان)

خواجہ محمد خان اسد حضروی کا تعلق علاقہ چھچھ کے معروف علی زئی قبیلہ سے تھا۔ آپ۵/دسمبر ۱۹۱۹ء کو عطا محمد خان علی زئی کے ہاں حضرو میں پیدا ہوئے۔ تین برس کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ تایا حاجی دوست محمد خان (سپرنٹنڈنٹ پولیس) کے زیر تربیت رہے۔ مڈل اور میٹرک کے امتحانات حضرو سے پاس کیے۔کم سنی میں مولانا ظفر علی خان کی صحبت سے مستفیض ہوئے،جو ان دنوں اکثر حضرو تشریف لایا کرتے تھے۔مولانا ظفر علی خان نے ہی ان کے لیے ”اسد“ تخلص تجویز کیا تھا۔ اسد حضروی تحریک پاکستان کے سرگرم رکن تھے، اس سلسلہ میں انہیں متعدد بار جیل بھی جانا پڑا۔ بمبئی،لکھنؤ، دہلی، اجمیرشریف سے ہوتے ہوئے اعظم گڑھ کا سفر بھی کیا جہاں انہیں سید سلیمان ندوی اور مولانامعین الدین ندوی سے اکتساب فیض کا موقع ملا۔ وطن واپس آکرحضرو میں لائبریری کی بنیاد رکھی جسے بعد میں ”میرا کتب خانہ“ کا نام دیا گیا۔ اس کتب خانہ میں دس ہزار سے زائد کتب موجود ہیں جن میں نادر خطی نسخے اور خطوط بھی شامل ہیں۔ خواجہ محمد خان انتہائی متقی اور پاکباز انسان تھے۔ ان کے کتب خانہ سے بڑے بڑے اسکالرز نے استفادہ کیا۔ان کی تصانیف میں: ۱۔اورنگ زیب عالمگیر،۲۔ تاریخ علی زئیانِ چھچھ،۳۔حدیثِ دل(مجموعہ کلام)،۴۔ مقالاتِ اسد(مرتبہ: راشد علی زئی) شامل ہیں۔سچے عاشق رسول تھے، اکثر غزل کے طرحی مشاعروں میں بھی طرحی مصرع پر نعت ہی کہا کرتے تھے۔۱۹۸۰ ء میں اپنی زمین کا کچھ حصہ بیچ کر حج بیت اللہ کے عازم ہوئے۔روانگی کے وقت ریلوے سٹیشن پررخصت کرنے والے ساتھیوں سے کہا: دعا کرو کہ”خدا مجھے واپس نہ لائےاور میں وہیں حجاج کے پاؤں تلے روندا جاؤں“ یہ دعا قبول ہوئی ،تکمیل حج اور مدینہ منورہ سے واپسی کے بعدخرابیٔ صحت اور کمزوری کے باوجودغارِ حرا کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے، وہاں سے واپسی پر طبیعت خراب ہوئی،قبلہ رخ لٹایا گیا تو زیرِ لب کلمۂ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جان، جان آفریں کے سپرد کردی۔ بیت اللہ شریف میں نماز جنازہ ہوئی اور جنت المعلی میں سپرد خاک ہوئے۔
(نعت گویان اٹک جلد اول۔ مرتبہ سید شاکرالقادری۔ ناشر: اکادمی فروغ نعت اٹک پاکستان۔ صفحہ ۴۷)

نمونۂ کلام:۔
کیف کا عالم ہر اک سو صحنِ دل پر چھا گیا
بیٹھے بیٹھے آج یہ کس کا تصور آگیا
میری نظروں میں مے و مینا تو اب جچتے نہیں
ساقیِ کوثر سے مجھ کو جام وہ بخشا گیا
پھر درِ کعبہ پر سر اپنا جھکا ہے اے اسد
مصطفیٰ ؐکا پھر مرے ہاتھوں میں دامن آگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں میں آیا ہوں میں ذکرِ مصطفیٰ کے لیے
خدائے پاک نے بخشی زباں ثنا کے لیے
اسد ہے وردِ زبان اب تو بس درود و سلام
یہ زادِ راہ ہے مجھ ایسے بے نوا کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدینہ میں مجھ کو بلا میرے آقا
ہے مسموم ساری فضا میرے آقا
جدائی میں تیری تڑ پتا ہوں ہر دم
مجھے روئے انور دکھا میرے آقا
۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top