شاخِ درود پر مہکتے پھول
ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی نعتیہ شاعری
یوں تو اردو نعت گوئی کی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود اردو زبان لیکن اس مقدس صنف کو ادبی پیرائے میں اور تخلیقی وفور کے ساتھ لکھنے والے ہر دور میں محدودے و معدودے چند افراد ہی رہے۔ آج بھی ایک کثیر تعداد میں روایتی اور عامیانہ مجلسی رنگ میں نعت لکھی جاری ہے لیکن الحمد للہ ہماری نعت اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جس میں ہمارے نعت گو شاعر میں ایک احساس زمہ داری پیدا ہوا ہے اور وہ نعتیہ اسلوب فن کی جانب متوجہ ہوا ہے۔
اسی طرح شعر ی جمالیات کا تاج محل لفظ و معنی کے حسین ربط وتعلق کی بنیاد پر استوار ہے ۔ لفظ اگر جسم ہے تو معنیٰ اس کی روح ہے جسم کی زندگی، بقا اور شادابی روح کے بغیر ممکن نہیں۔ بظاہر تو شعر اوزان ، قوافی، ردیف اور چند لگے بندھے اصولوں اور ضوابط کے تحت ترتیب پاتا ہے لیکن اس طرح سے مرتب شدہ مصارع اگر شاعر کے قلبی احساسات، جذبات اور میلانات کا سچا اور سُچا اظہاریہ نہیں بن پاتے تو یہ ایک ایسے بے جان پیکر کی مثال ہوتے ہیں جو زندگی کی رمق، اظہار کی تازگی ، تاثیر کی اثر آفرینی اورجذبوں کی صداقت و شادابی سے محروم ہوتا ہے۔ردیف و قافیہ، اوزان و بحور اور تراکیب و اسالیب فن کا یہ مرقع اگرشاعر کے احساسات و جذبات کا سچائی سے بھر پور اظہاریہ بن جائے تویہ اثر پذیری، کیف انگیزی، صلابت بیان، سلاست لسان اور جذبوں کی شدت و صداقت کا ترجمان بن جاتا ہے۔
نعتیہ شاعری کا جہاں سچی عقیدت اورعشق و محبت سے تعلق ہے وہاں موضوعات نعت بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں جن کے مآخد کا تعلق قرآن و سنت، سیرتِ مطہرہ اور اسوۂ حسنہ سے ہے۔ ایسے موضوعاتی خیالات کوشعر کے قالب میں ڈھالنا اگرچہ ناممکن تو نہیں لیکن انتہائی مشکل کام ہے۔ نعتیہ تصورات و موضوعات کو اس انداز میں شعر کرنا کہ وہ بہ یک وقت دل، دماغ اور زبان سے ہم آہنگ ہو کر ایک سرمدی نغمے کا روپ دھار لیں بلاشبہ کرشمہ گری ہے اور الحمد للہ ہمارے دور میں یہ کرشمہ رونما ہو رہا ہے۔ چناں چہ آج کی نعتیہ شاعری میں اردو شاعری کی لسانیات، رموز و علائم اور دیگر لوازم عشق و عقیدت سے ہم کناری کے ساتھ ایک نئے وجود کی صورت میں تخلیقی افق پر نمودار ہو رہے ہیں۔ اگرچہ بادی النظر میں نعت قصیدہ ہی کی ایک قسم ہے لیکن اسلوب، انداز اور دیگر لوازمات کے اعتبار سے یہ صنف اپنی نوعیت کی واحد صنف ہے جس میں ادنی سے ادنیٰ درجہ کی خطا کی بھی گنجائش نہیں کیونکہ یہ ایک ایسی شخصیت کا قصیدہ ہے جسے خالق کائنات نے ہر ظاہری و باطنی عیب سے پاک رکھا ہے:
وأَحسنُ منک لم ترَ قطُّ عيني
واجمل منک لم تلد النساءُ
خلقتَ مبرأً منْ كلّ عيبٍ
کانک قدْ خلقتَ كما تشاءُ
نہیں دیکھا مری آنکھوں نے کوئی مہ جبیں جاناں
نہ آغوش ِ صدف میں ہے کوئی دُرِّ ثمیں جاناں
تمہیں پیدا کیا ہر عیب سے یوں پاک خالق نے
کہ جیسے اپنی مرضی سے بنے ہو نازنیں جاناں
(منظوم ترجمہ: شاکرالقادری)
یہ ایک ایسے انسان کی تعریف ہے جو انسان کامل ہے۔ وہ اپنی صورت، سیرت اور اخلاق کے حوالے سے بے نظیر و بے مثال ہے۔ ایسی شخصیت کی تعریف کما حقہ ممکن ہی نہیں، نعت تو ایک ایسا جادۂ رحمت ہے جس پر چلنے والے رہ نوردان شوق کی کوئی منزل نہیں ہوتی، یہ ایک ایسا جادۂ شوق ہے جس کے ہر مرحلہ پرایک جہانِ دیگر آباد ہے جس کی سیر کامل ایک انسان کے بس کی بات ہی نہیں۔اردو ادب میں نعت گوئی کے سفر کا جائزہ لیا جائے تو میری اس بات کی تائید ہوگی کہ اس سفر کاہر مرحلہ اور ہر سنگ میل نعت کے نئے امکانات کے ساتھ جلوہ گر ہوتا رہا ہے ہمارے موجودہ دور میں بھی نعت کے مزید امکانات روشن ہوئے ہیں۔ فنی ترو تازگی، فکری شادابی اور تخلیقی وفور کے اعتبار سے نئی راہیں اور منزلیں دریافت ہوئی ہیں جن پر رہ نوردانِ شوق کا سفر جاری و ساری ہے۔
ہمارے ممدوح ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد بھی اسی جادہ شوق کے راہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اٹک سے تعلق رکھنے والے ان معدودے چند خود افروز افراد میں سے ہیں جن پر بجا طور پر ہمیں فخر ہے۔وہ بہ یک وقت تحقیق، تنقید اور تخلیق کے میدانوں کے شاہ سوار ہیں۔علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے شعبہ اردو میں بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں، کم و بیش تیس کتب کے مصنف ہیں،آپ کے شعری اثاثہ میں ”آغوش گل“، ”ابھی تک تم نہیں سمجھے“ اور ”رنگ“ مجموعہ ہائے غزلیات کے علاوہ بابا فرید شکر گنجؒ کے اشلوکوں کا منظوم ترجمہ اور ایک مثنوی ”کتاب نامہ“ شامل ہیں۔جب کہ ان کا نعتیہ سرمایہ ہنوز منتظر اشاعت ہے۔ اردو، پنجابی اور فارسی میں شعر کہتے ہیں۔ میں ان کی شعری ساخت و پرداخت کے سارے عمل کا گواہ ہوں۔ حضرت نذر صابری رحمة اللہ علیہ کی ”محفل شعر و ادب اٹک“ میں اس ہشت پہلو نگینہ کی تراش خراش ہوئی جہاں نہ صرف ان کی فن شعر گوئی، تنقید نگاری اور تحقیق و تدقیق میں تربیت ہوئی بلکہ انہیں ایک پاکیزہ، معتدل اور راست رو دینی فکر بھی عطا ہوئی۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور نعت گوئی محفل شعروادب کے اختصاصی فیوضات میں سے تھا اور یہ فیض حضرت نذر صابری ؒ ”افسردہ دل افسردہ کند انجمنے را“ کی مصداق اس محفل میں شامل ہونے والے ہر فرد میں بقدر ظرف تقسیم کرتے رہے۔اس محفل کا کوئی بھی رکن اس نعمت عظمیٰ سے محروم نہ رہا۔ میں ڈاکٹر صاحب کی نعت گوئی کو بھی اسی محفل کی دین سمجھتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب کو حضرت نذر صابریؒ سے قرب و معیت کا جو تعلق تھا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔صابری صاحبؒ کے وصال کے بعد ان کے علمی و ادبی آثار کی حفاظت و اشاعت کا کام جس سلیقے اور سعادت مندی سے انہوں نے انجام دیا ہے اسے دیکھتے ہوئے اگر میں یہ کہوں کہ صابریؓ صاحب کا یہ روحانی بیٹا حقیقی معنوں میں ان کا علمی وارث و جانشین کہلانے کا مستحق ہے تو کسی طور بے جا نہ ہوگا۔
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
تو پسر قابل میراث پدر کیوں کر ہو
میرے سامنے ڈاکٹر صاحب کا تمام نعتیہ سرمایہ موجود نہیں تاہم دو درجن کے قریب نعتیں میرے سامنے ہیں جو کہ ان کی نعتیہ تخلیق کی قدروقیمت متعین کرنے کے لیے ناکافی نہیں ہیں۔کسی بھی تخلیق کی قدر و قیمت کا تعین تخلیق کار کی ہنر مندی سے ہوتا ہے۔ جس میں خیال کی ندرت، اس کی تجسیم و تشکیل کے لیے مناسب سانچے کے انتخاب، لفظوں کے چناؤ ، تراکیب سازی ، معنوی تجمل ، لفظی اور حرفی صوتیات، طبیعت سے ہم آہنگ اوزان و بحور کا انتخاب، متحرک قوافی و ردیف کا اہتمام، جمالیاتی ذوق کی وفرت، غنائیت وترنم، اور جذبات و احساسات کی کامیاب ترسیل و ابلاغ شامل ہیں۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کو یہ کمالِ ہنر مندی حاصل ہے۔ ان کی نعت کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ ان کے نعت پارے نہ صرف متن کے اعتبار سے قدر و قیمت کے حامل ہوتے ہیں بلکہ پیش کش، فنی شعور، جمالیاتی ذوق، اثر پذیری و سرشاری کے خوبصورت اور پر کیف اظہاریوں کے اعتبار سے بھی نظیری نیشاپوری کے اس شعر کے مصداق ہوتے ہیں:
ز فرق تا قدمش ہر کجا کہ می نگرَم
کرشمہ دامنِ دل می کشدکہ جا اینجاست
ایسی کرشمہ سازی جو دامن دل کو تھام لے ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ یہ طویل فکری مراقبوں اور مسلسل جہد و ریاضت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ایک بڑا تخلیق کار خیال کے شعری پیکر کی تشکیل کے لیے اس کے جملہ تقاضوں پر نگاہ رکھتا ہے اور یہی عمل اس کی ہنر مندی اور کرشمہ سازی کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ غزل کے میدان میں ڈاکٹر صاحب کی طویل شعری ریاضت ،دیگر اصنافِ شعر سے بھرپور آگاہی، فن نقد و نظر سے ان کی گہری آشنائی ، اور جمالیاتی بصیرت نے اُن کے نعتیہ اظہار کو لطافت اور تازگی کی نئی جہات سے آشنا کیا ہے۔
اپنی ذات کو عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آمیخت کرکے جذبات و محسوسات کو فکر و فن کی بھٹی میں ڈل کر شعر کا کندن تیار کرناایک بہت دشوار مرحلہ ہے۔ ڈاکٹر ناشاد اس دشوار گزار مرحلے سے بہ حسن و خوبی گزر کر جب شعر کا کندن چمکاتے ہیں تو گویا نور و نکہت کا ایک زندہ و جاوید پیکر ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ کوثر و تسنیم میں دھلی زبان، شفاف لب و لہجہ، لفظ و معنی کا ربط و ضبط تشبیہ و استعارات کی دل کشی، علامتوں اور کنایوں کی وسعت اسلوب بیان کی لطافت و شائستگی ایک ایسا سحر انگیز تاثر پیدا کرتی ہیں کہ قاری اس میں مکمل طور پر ڈوب جانے والی کیفیت سے سرشار ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر ناشاد عہد جدید کی نعت گوئی کے اہم ترین پہلو یعنی سیرت مطہرہ اور اسوۂ حسنہ کے توسط سے موجودہ دور کے معاشی، معاشرتی، تہذیبی، ثقافی اور سیاسی و سماجی مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں وہ ان تمام مباحث کو جذبۂ دل کے ساتھ ہم آہنگ کر کے نعت کے سرمدی نغمے تراشتے ہیں۔ وہ محض رسم دنیا کے تحت یا مجبوری میں نعت نہیں لکھتے ان کی نعت کے نغمے ان کے داخلی جذبوں کی لے پر ہی مچلتے ہیں۔ انہوں نے کثرت نعت گوئی کو اپنا شعار نہیں بنایا بلکہ وہ جب بھی نعت لکھتے ہیں قلبی تحریک کے تحت لکھتے ہیں۔ڈاکٹر ناشاد کے نعت پاروں کا انتہائی دیانت داری سے مطالعہ کیا جائے تو یہ تسلیم کیے بنا چارہ نہیں کہ ان کا ہر نعت پارہ متن کی درستی فکر کی راست روی، عشق و عقیدت سے سرشاری اورمعراج فن کے حوالے سے چیدہ و چنیدہ ہے۔ اگر میں یہاں ان کے چند اشعار کا انتخاب کرنا چاہوں تو شاید یہ مرحلہ میرے لیے سخت امتحان ثابت ہو، میں اس کڑے امتحان سے نہیں گزرنا چاہتا،تاہم یہاں بطور نمونہ چند اشعار نقل کرتا ہوں جو ”از دل خیزد و در دل ریزد“ کی شان دار مثال ہیں:
وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اُترتے ہیں
وہ کیا زمیں ہے جہاں آسماں اُترتے ہیں
اس جہاں میں سبز گنبد کے سوا کُچھ بھی نہیں
اور یہ سارا جہاں ہے سبز گنبد کے تلے
فاراں کی چوٹیوں پہ جو چمکا عرب کا چاند
ہر سمت کر گیا ہے اُجالا عرب کا چاند
وہ سرزمین بوسہ گۂ قدسیاں ہوئی
جس سرزمیں کی خاک پہ اُترا عرب کا چاند
اُس پر بصارتوں کا صحیفہ تمام ہے
جس خوش نصیب آنکھ نے دیکھا عرب کا چاند
رخشندگی میں کون عدیم المثال ہے؟
لوحِ تخیلات پہ اُبھرا عرب کا چاند
مہر و مہ و نجوم کی دُنیا ہو مضطرب
کر دے جو اِک ذرا سا اشارا عرب کا چاند
سدرہ سے اُس طرف کے مناظر بدل گئے
معراج رات عرش پہ پہنچا عرب کا چاند
خوفِ غروب جس کو نہ رنجِ کُسوف ہے
نقشِ ابد نشاں ہے وہ پُورا عرب کا چاند
وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اُترتے ہیں
وہ کیا زمیں ہے جہاں آسماں اُترتے ہیں
ترے چمن سے خزاں کا گُزر نہیں ہوتا
ترے چمن میں گُلِ جاوداں اُترتے ہیں
بس اِک بار وہ شہرِ جمال دیکھنا ہے
جہاں پہ مہر و مہ و کہکشاں اُترتے ہیں
نگاہ شوق نے خوابوں میں جن کو دیکھا ہے
بیاضِ دل سے وہ منظر کہاں اُترتے ہیں
اگر خیال میں شامل ہو تیرے ذکر کا نَم
ورق ورق پہ کئی گلستاں اُترتے ہیں
خدا کا شُکر ہے کہ نسبت ہے اُس دیار کے ساتھ
پئے سلام ملائک جہاں اُترتے ہیں
ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی نعتیہ شاعری
یوں تو اردو نعت گوئی کی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود اردو زبان لیکن اس مقدس صنف کو ادبی پیرائے میں اور تخلیقی وفور کے ساتھ لکھنے والے ہر دور میں محدودے و معدودے چند افراد ہی رہے۔ آج بھی ایک کثیر تعداد میں روایتی اور عامیانہ مجلسی رنگ میں نعت لکھی جاری ہے لیکن الحمد للہ ہماری نعت اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جس میں ہمارے نعت گو شاعر میں ایک احساس زمہ داری پیدا ہوا ہے اور وہ نعتیہ اسلوب فن کی جانب متوجہ ہوا ہے۔
اسی طرح شعر ی جمالیات کا تاج محل لفظ و معنی کے حسین ربط وتعلق کی بنیاد پر استوار ہے ۔ لفظ اگر جسم ہے تو معنیٰ اس کی روح ہے جسم کی زندگی، بقا اور شادابی روح کے بغیر ممکن نہیں۔ بظاہر تو شعر اوزان ، قوافی، ردیف اور چند لگے بندھے اصولوں اور ضوابط کے تحت ترتیب پاتا ہے لیکن اس طرح سے مرتب شدہ مصارع اگر شاعر کے قلبی احساسات، جذبات اور میلانات کا سچا اور سُچا اظہاریہ نہیں بن پاتے تو یہ ایک ایسے بے جان پیکر کی مثال ہوتے ہیں جو زندگی کی رمق، اظہار کی تازگی ، تاثیر کی اثر آفرینی اورجذبوں کی صداقت و شادابی سے محروم ہوتا ہے۔ردیف و قافیہ، اوزان و بحور اور تراکیب و اسالیب فن کا یہ مرقع اگرشاعر کے احساسات و جذبات کا سچائی سے بھر پور اظہاریہ بن جائے تویہ اثر پذیری، کیف انگیزی، صلابت بیان، سلاست لسان اور جذبوں کی شدت و صداقت کا ترجمان بن جاتا ہے۔
نعتیہ شاعری کا جہاں سچی عقیدت اورعشق و محبت سے تعلق ہے وہاں موضوعات نعت بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں جن کے مآخد کا تعلق قرآن و سنت، سیرتِ مطہرہ اور اسوۂ حسنہ سے ہے۔ ایسے موضوعاتی خیالات کوشعر کے قالب میں ڈھالنا اگرچہ ناممکن تو نہیں لیکن انتہائی مشکل کام ہے۔ نعتیہ تصورات و موضوعات کو اس انداز میں شعر کرنا کہ وہ بہ یک وقت دل، دماغ اور زبان سے ہم آہنگ ہو کر ایک سرمدی نغمے کا روپ دھار لیں بلاشبہ کرشمہ گری ہے اور الحمد للہ ہمارے دور میں یہ کرشمہ رونما ہو رہا ہے۔ چناں چہ آج کی نعتیہ شاعری میں اردو شاعری کی لسانیات، رموز و علائم اور دیگر لوازم عشق و عقیدت سے ہم کناری کے ساتھ ایک نئے وجود کی صورت میں تخلیقی افق پر نمودار ہو رہے ہیں۔ اگرچہ بادی النظر میں نعت قصیدہ ہی کی ایک قسم ہے لیکن اسلوب، انداز اور دیگر لوازمات کے اعتبار سے یہ صنف اپنی نوعیت کی واحد صنف ہے جس میں ادنی سے ادنیٰ درجہ کی خطا کی بھی گنجائش نہیں کیونکہ یہ ایک ایسی شخصیت کا قصیدہ ہے جسے خالق کائنات نے ہر ظاہری و باطنی عیب سے پاک رکھا ہے:
وأَحسنُ منک لم ترَ قطُّ عيني
واجمل منک لم تلد النساءُ
خلقتَ مبرأً منْ كلّ عيبٍ
کانک قدْ خلقتَ كما تشاءُ
نہیں دیکھا مری آنکھوں نے کوئی مہ جبیں جاناں
نہ آغوش ِ صدف میں ہے کوئی دُرِّ ثمیں جاناں
تمہیں پیدا کیا ہر عیب سے یوں پاک خالق نے
کہ جیسے اپنی مرضی سے بنے ہو نازنیں جاناں
(منظوم ترجمہ: شاکرالقادری)
یہ ایک ایسے انسان کی تعریف ہے جو انسان کامل ہے۔ وہ اپنی صورت، سیرت اور اخلاق کے حوالے سے بے نظیر و بے مثال ہے۔ ایسی شخصیت کی تعریف کما حقہ ممکن ہی نہیں، نعت تو ایک ایسا جادۂ رحمت ہے جس پر چلنے والے رہ نوردان شوق کی کوئی منزل نہیں ہوتی، یہ ایک ایسا جادۂ شوق ہے جس کے ہر مرحلہ پرایک جہانِ دیگر آباد ہے جس کی سیر کامل ایک انسان کے بس کی بات ہی نہیں۔اردو ادب میں نعت گوئی کے سفر کا جائزہ لیا جائے تو میری اس بات کی تائید ہوگی کہ اس سفر کاہر مرحلہ اور ہر سنگ میل نعت کے نئے امکانات کے ساتھ جلوہ گر ہوتا رہا ہے ہمارے موجودہ دور میں بھی نعت کے مزید امکانات روشن ہوئے ہیں۔ فنی ترو تازگی، فکری شادابی اور تخلیقی وفور کے اعتبار سے نئی راہیں اور منزلیں دریافت ہوئی ہیں جن پر رہ نوردانِ شوق کا سفر جاری و ساری ہے۔
ہمارے ممدوح ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد بھی اسی جادہ شوق کے راہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اٹک سے تعلق رکھنے والے ان معدودے چند خود افروز افراد میں سے ہیں جن پر بجا طور پر ہمیں فخر ہے۔وہ بہ یک وقت تحقیق، تنقید اور تخلیق کے میدانوں کے شاہ سوار ہیں۔علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے شعبہ اردو میں بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں، کم و بیش تیس کتب کے مصنف ہیں،آپ کے شعری اثاثہ میں ”آغوش گل“، ”ابھی تک تم نہیں سمجھے“ اور ”رنگ“ مجموعہ ہائے غزلیات کے علاوہ بابا فرید شکر گنجؒ کے اشلوکوں کا منظوم ترجمہ اور ایک مثنوی ”کتاب نامہ“ شامل ہیں۔جب کہ ان کا نعتیہ سرمایہ ہنوز منتظر اشاعت ہے۔ اردو، پنجابی اور فارسی میں شعر کہتے ہیں۔ میں ان کی شعری ساخت و پرداخت کے سارے عمل کا گواہ ہوں۔ حضرت نذر صابری رحمة اللہ علیہ کی ”محفل شعر و ادب اٹک“ میں اس ہشت پہلو نگینہ کی تراش خراش ہوئی جہاں نہ صرف ان کی فن شعر گوئی، تنقید نگاری اور تحقیق و تدقیق میں تربیت ہوئی بلکہ انہیں ایک پاکیزہ، معتدل اور راست رو دینی فکر بھی عطا ہوئی۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور نعت گوئی محفل شعروادب کے اختصاصی فیوضات میں سے تھا اور یہ فیض حضرت نذر صابری ؒ ”افسردہ دل افسردہ کند انجمنے را“ کی مصداق اس محفل میں شامل ہونے والے ہر فرد میں بقدر ظرف تقسیم کرتے رہے۔اس محفل کا کوئی بھی رکن اس نعمت عظمیٰ سے محروم نہ رہا۔ میں ڈاکٹر صاحب کی نعت گوئی کو بھی اسی محفل کی دین سمجھتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب کو حضرت نذر صابریؒ سے قرب و معیت کا جو تعلق تھا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔صابری صاحبؒ کے وصال کے بعد ان کے علمی و ادبی آثار کی حفاظت و اشاعت کا کام جس سلیقے اور سعادت مندی سے انہوں نے انجام دیا ہے اسے دیکھتے ہوئے اگر میں یہ کہوں کہ صابریؓ صاحب کا یہ روحانی بیٹا حقیقی معنوں میں ان کا علمی وارث و جانشین کہلانے کا مستحق ہے تو کسی طور بے جا نہ ہوگا۔
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
تو پسر قابل میراث پدر کیوں کر ہو
میرے سامنے ڈاکٹر صاحب کا تمام نعتیہ سرمایہ موجود نہیں تاہم دو درجن کے قریب نعتیں میرے سامنے ہیں جو کہ ان کی نعتیہ تخلیق کی قدروقیمت متعین کرنے کے لیے ناکافی نہیں ہیں۔کسی بھی تخلیق کی قدر و قیمت کا تعین تخلیق کار کی ہنر مندی سے ہوتا ہے۔ جس میں خیال کی ندرت، اس کی تجسیم و تشکیل کے لیے مناسب سانچے کے انتخاب، لفظوں کے چناؤ ، تراکیب سازی ، معنوی تجمل ، لفظی اور حرفی صوتیات، طبیعت سے ہم آہنگ اوزان و بحور کا انتخاب، متحرک قوافی و ردیف کا اہتمام، جمالیاتی ذوق کی وفرت، غنائیت وترنم، اور جذبات و احساسات کی کامیاب ترسیل و ابلاغ شامل ہیں۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کو یہ کمالِ ہنر مندی حاصل ہے۔ ان کی نعت کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ ان کے نعت پارے نہ صرف متن کے اعتبار سے قدر و قیمت کے حامل ہوتے ہیں بلکہ پیش کش، فنی شعور، جمالیاتی ذوق، اثر پذیری و سرشاری کے خوبصورت اور پر کیف اظہاریوں کے اعتبار سے بھی نظیری نیشاپوری کے اس شعر کے مصداق ہوتے ہیں:
ز فرق تا قدمش ہر کجا کہ می نگرَم
کرشمہ دامنِ دل می کشدکہ جا اینجاست
ایسی کرشمہ سازی جو دامن دل کو تھام لے ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ یہ طویل فکری مراقبوں اور مسلسل جہد و ریاضت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ایک بڑا تخلیق کار خیال کے شعری پیکر کی تشکیل کے لیے اس کے جملہ تقاضوں پر نگاہ رکھتا ہے اور یہی عمل اس کی ہنر مندی اور کرشمہ سازی کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ غزل کے میدان میں ڈاکٹر صاحب کی طویل شعری ریاضت ،دیگر اصنافِ شعر سے بھرپور آگاہی، فن نقد و نظر سے ان کی گہری آشنائی ، اور جمالیاتی بصیرت نے اُن کے نعتیہ اظہار کو لطافت اور تازگی کی نئی جہات سے آشنا کیا ہے۔
اپنی ذات کو عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آمیخت کرکے جذبات و محسوسات کو فکر و فن کی بھٹی میں ڈل کر شعر کا کندن تیار کرناایک بہت دشوار مرحلہ ہے۔ ڈاکٹر ناشاد اس دشوار گزار مرحلے سے بہ حسن و خوبی گزر کر جب شعر کا کندن چمکاتے ہیں تو گویا نور و نکہت کا ایک زندہ و جاوید پیکر ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ کوثر و تسنیم میں دھلی زبان، شفاف لب و لہجہ، لفظ و معنی کا ربط و ضبط تشبیہ و استعارات کی دل کشی، علامتوں اور کنایوں کی وسعت اسلوب بیان کی لطافت و شائستگی ایک ایسا سحر انگیز تاثر پیدا کرتی ہیں کہ قاری اس میں مکمل طور پر ڈوب جانے والی کیفیت سے سرشار ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر ناشاد عہد جدید کی نعت گوئی کے اہم ترین پہلو یعنی سیرت مطہرہ اور اسوۂ حسنہ کے توسط سے موجودہ دور کے معاشی، معاشرتی، تہذیبی، ثقافی اور سیاسی و سماجی مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں وہ ان تمام مباحث کو جذبۂ دل کے ساتھ ہم آہنگ کر کے نعت کے سرمدی نغمے تراشتے ہیں۔ وہ محض رسم دنیا کے تحت یا مجبوری میں نعت نہیں لکھتے ان کی نعت کے نغمے ان کے داخلی جذبوں کی لے پر ہی مچلتے ہیں۔ انہوں نے کثرت نعت گوئی کو اپنا شعار نہیں بنایا بلکہ وہ جب بھی نعت لکھتے ہیں قلبی تحریک کے تحت لکھتے ہیں۔ڈاکٹر ناشاد کے نعت پاروں کا انتہائی دیانت داری سے مطالعہ کیا جائے تو یہ تسلیم کیے بنا چارہ نہیں کہ ان کا ہر نعت پارہ متن کی درستی فکر کی راست روی، عشق و عقیدت سے سرشاری اورمعراج فن کے حوالے سے چیدہ و چنیدہ ہے۔ اگر میں یہاں ان کے چند اشعار کا انتخاب کرنا چاہوں تو شاید یہ مرحلہ میرے لیے سخت امتحان ثابت ہو، میں اس کڑے امتحان سے نہیں گزرنا چاہتا،تاہم یہاں بطور نمونہ چند اشعار نقل کرتا ہوں جو ”از دل خیزد و در دل ریزد“ کی شان دار مثال ہیں:
وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اُترتے ہیں
وہ کیا زمیں ہے جہاں آسماں اُترتے ہیں
اس جہاں میں سبز گنبد کے سوا کُچھ بھی نہیں
اور یہ سارا جہاں ہے سبز گنبد کے تلے
فاراں کی چوٹیوں پہ جو چمکا عرب کا چاند
ہر سمت کر گیا ہے اُجالا عرب کا چاند
وہ سرزمین بوسہ گۂ قدسیاں ہوئی
جس سرزمیں کی خاک پہ اُترا عرب کا چاند
اُس پر بصارتوں کا صحیفہ تمام ہے
جس خوش نصیب آنکھ نے دیکھا عرب کا چاند
رخشندگی میں کون عدیم المثال ہے؟
لوحِ تخیلات پہ اُبھرا عرب کا چاند
مہر و مہ و نجوم کی دُنیا ہو مضطرب
کر دے جو اِک ذرا سا اشارا عرب کا چاند
سدرہ سے اُس طرف کے مناظر بدل گئے
معراج رات عرش پہ پہنچا عرب کا چاند
خوفِ غروب جس کو نہ رنجِ کُسوف ہے
نقشِ ابد نشاں ہے وہ پُورا عرب کا چاند
وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اُترتے ہیں
وہ کیا زمیں ہے جہاں آسماں اُترتے ہیں
ترے چمن سے خزاں کا گُزر نہیں ہوتا
ترے چمن میں گُلِ جاوداں اُترتے ہیں
بس اِک بار وہ شہرِ جمال دیکھنا ہے
جہاں پہ مہر و مہ و کہکشاں اُترتے ہیں
نگاہ شوق نے خوابوں میں جن کو دیکھا ہے
بیاضِ دل سے وہ منظر کہاں اُترتے ہیں
اگر خیال میں شامل ہو تیرے ذکر کا نَم
ورق ورق پہ کئی گلستاں اُترتے ہیں
خدا کا شُکر ہے کہ نسبت ہے اُس دیار کے ساتھ
پئے سلام ملائک جہاں اُترتے ہیں
Last edited: