• فروغ نعت پر رجسٹر ہونے کا طریقہ

    خزف ہوں اور جواہر کی کائنات میں ہوں   ❃   زہے نصیب کہ بزم فروغِ نعت میں ہوں

    محترم/محترمہ۔۔! السلام علیکم

    ہم بزم فروغ نعت میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اس بزم میں رجسٹر ہو کر فروغ نعت کے کارِ خیر میں بھرپور حصہ لیں گے۔ اگر رجسٹریشن میں دشواری ہو تو ہماری رہنمائی ملاحظہ فرمائیں۔

نعت گو شاعر محمد ابرارالحق شاکر۔ پنڈی گھیب، اٹک

فروغ نعت

Administrator
Staff member
ابرارشاکر(محمدابرارالحق)

پورا نام محمد ابرار الحق شاکر ہے۔ ابرار شاکر کے قلمی نام سے شہرت رکھتے ہیں ۔پنڈی گھیب کے ایک دینی گھرانے میں حاجی غلام رسول اعوان کے ہاں اپریل1964ءمیں پیدا ہوئے۔ گریجویشن تک تعلیم پنڈی گھیب سے ہی حاصل کی ۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اصغر مال راولپنڈی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی سے ایم ایڈ کے امتحانات پاس کیے۔چند سال اسلام آباد میں ایک غیر ملکی تعلیمی ادارے میں انگریزی کے لیکچرار کے طور پر سروس کی۔1994ءمیں پنڈی گھیب میں اپنے نجی تعلیمی ادارے آکسفورڈپبلک سکول کی بنیاد رکھی۔جس کی شاخیں پنڈی گھیب شہر اور ملحقہ علاقوں میں قائم ہو چکی ہیں جہاں ابتدائی کلاسز سے لے کر پوسٹ گریجویٹ سطح تک تعلیم دی جاتی ہے۔ راولپنڈی تعلیمی بورڈ اور سرگودھا یونیورسٹی سے ان اداروں کے طلبہ متعدد دفعہ ٹاپ پوزیشنیں حاصل کر چکے ہیں ۔ ابرار شاکرکو بچپن ہی سے شعر و ادب سے گہرا لگاؤ ہے ۔ساتویں جماعت کے طالب علم تھے جب پہلا شعر کہا ۔فنِ شاعری باقاعدہ کسی استاد سے نہیں سیکھا ۔ اردو ،پنجابی اور انگریزی زبان میں اُن کے شعری مجموعے شائع ہو کر اہلِ قلم سے دادوتحسین حاصل کر چکے ہیں ۔ ادب برائے زندگی کے قائل ہیں ۔کسی خاص ادبی تنظیم سے کبھی منسلک نہیں رہے۔نعتیہ شاعری کی طرف رحجان زیادہ ہے ۔ آپ کا نعتیہ شعری مجموعہ بعنوان”ہمارا نبیﷺ “2021ءمیں شائع ہو چکاہے ۔ اپنی ماں بولی گھیبی میں ایک اور نعتیہ مجموعے پر کام کر رہے ہیں ۔تصوف سے بھی گہرا لگاؤ ہے ۔ اس موضوع پر ان کی ایک کتاب بعنوان” لمعاتِ مدائح میروی“2024ءمیں شائع ہوئی ۔عظیم خانقاہ میرا شریف سے روحانی وابستگی رکھتے ہیں ۔موجودہ سجادہ نشین پیر فاروق احمد میروی کے زیرِ اہتمام خانقاہِ معلی پرقائم سلسلہِ دروسِ تصوف میں گزشتہ کچھ برسوں سے تصوف و روحانیات کی کلاسز بھی باقاعدگی سے پڑھا رہے ہیں ۔
ابرار شاکر ایک اعلی پایہ کے مترجم ہیں ۔معروف مرحوم شاعر سید عارف کی کشمیر پر نظموں کی کتاب”لہو کی فصلیں“کا انگریزی زبان میں ”Crops of Blood“کے نام سے منظوم ترجمہ کیا جو 2017ءمیں کتابی صورت میں شائع ہوا ۔آپ کو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی مشہور مثنوی ”اسرارخودی“کا پنجابی گھیبی لہجہ میں منظوم ترجمہ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ یہ منظوم ترجمہ ”خودی نے بھیت“کے نام سے 2024میں شائع ہوا ۔”لمعاتِ مدائح میروی“میں عظیم صوفی شعراء کے فارسی کلام کا بھی آپ نے بہت خوبصورت منظوم اردو ترجمہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اقبال اور عظیم صوفی شاعر امیر خسرو کی کئی غزلیات کا منظوم ترجمہ بھی کیا ہے ۔ابرار شاکر نے اپنے حج کے روحانی سفر کی روداد ”تجلیاتِ حرم“ کے عنوان سے 2012ءمیں قلم بند کی ۔ان کا اردو شعری مجموعہ ”نقوشِ ہستی“ 2022ءمیں شائع ہوا ۔ ابرار شاکرکو اپنی ماں بولی گھیبی کی لغت ترتیب دینے کا تاریخی اعزاز بھی حاصل ہے ۔ 2024میں مرتب ہوکر اشاعت پزیر ہونے والی اس لغت کا نام ”گھیبی -اردو - انگریزی“ لغت ہے ۔آپ کا پنجابی ، گھیبی لہجہ میں ایک شعری مجموعہ بعنوان”پہلی کنڑیں“بھی 2024ءمیں شائع ہوا۔یہ گھیبی لہجہ میں شائع ہونے والی شاعری کی پہلی کتاب ہے ۔ ابرار شاکر ایک کثیر الجہات شخصیت ہیں ۔ماہرِ تعلیم ، منفرد ادیب اور شاعر ہونے کے ساتھ ایک پختہ کار صحافی بھی ہیں ۔ پنڈی گھیب سے ایک سہ ماہی رسالہ”اکتسابِ تدبر“ 2006ءسے نکال رہے ہیں ۔یہ پنڈی گھیب سے جاری ہونے والا تا حال واحد رسالہ ہے ۔ 2000 ءمیں انہوں نے پنڈی گھیب سے”ندائے پنڈی گھیب“ کے نام سےپندرہ روزہ اخبار بھی نکالا تھا جو دو اڑھائی سال کے بعد شائع ہونا بند ہو گیا ۔ ابرار شاکر نجی شعبہ تعلیم وتدریس میں صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے والی علاقہ بھر کی واحد شخصیت ہیں ۔ آپ کو 2012 ءمیں تمغۂ امتیازاور2016 ءمیں بار ٹو میڈل آف میرٹ کے صدارتی اعزازات سے نوازا گیا ۔آپ کوان قومی اعزازت کے علاوہ کئی ایک صوبائی اور علاقائی علمی اور ادبی ایوارڈ ز بھی عطا کیے جا چکے ہیں ۔
(بہ شکریہ ، ابرار شاکر)
نمونہ کلام:
ہے جمالِ بزمِ ہست و بود طلعت آپ کی
نور گستر گلشنِ عالم میں جلوت آپ کی
آپ کی رحمت محیطِ عالمِ کون و مکاں
ماورا فہم و فراست سے ہے عظمت آپ کی
پھول کا کھلنا ہے طرزِ جنبشِ لبہائے پاک
منعکس رنگِ گلستاں میں ہے فطرت آپ کی
آپ کے اخلاق کو ارفع کہا قرآن نے
ہر طرح سے کامل و اکمل ہے طینت آپ کی
دم بخود لفظ و معانی روبرو ہیں آپ کے
حیطۂ اظہار سے باھر ہے مدحت آپ کی
آنچ تک آنے نہ دیں گے نام پر ہم آپ کے
کعبۂ ایماں! عزیز از جاں ہے حرمت آپ کی
کون ہو سکتا ہے ہمسر آپ کے اصحاب کا
جن کو حاصل تھی حیات افروز قربت آپ کی
لوٹ کر جائیں سوالی در سے خالی آپ کے
کب بھلا مانے گی ایسا عطف و رحمت آپ کی
جب چلے سدرہ سے آگے آپ اے خیرالبشر
دیکھ کر قدسی تھے حیراں شان و شوکت آپ کی
آپ کی تو قیر سے اعراض کرتے ہیں جو آج
دیکھ لیں گے روزِ محشر قدر و عزت آپ کی
اس جہانِ رنگ و بو سے کچھ غرض مجھ کو نہیں
میرا سب کچھ ہے فقط مہرو محبت آپ کی
پاگئے عشاق سارے سرمدیت آپ کے
کس قدر ہے جانفزا سرکار الفت آپ کی
لب پہ شاکر کے ہو جاری آپ کی مدح و ثنا
روبرو وقتِ نزع جب آئے صورت آپ کی

حوالہ: نعت گویانِ اٹک : مرتبہ: سید شاکرالقادری ناشر: فروغ نعت اٹک
 
Top