Faaiq Turabi
New member
وہ چاند ہے کہ چاندنی، وہ گیت ہے کہ نغمگی
وہ صحنِ خارزار میں چمیلیوں سی تازگی
لہو کے گھونٹ پی گیا، وہ شیر بن کے جی گیا
وہ تیرگی کے دشت میں ہے سبز سبز روشنی
اُسی کی شاخ شاخ پر حیاتِ نو نمو پذیر
وہ موت کے دیار میں ہے رسمساتی زندگی
وہ تتلیوں کا غم گُسار، خوشبوؤں کی یادگار
سدا بہار، گل عذار، عطر بار آدمی
مَیں اُس کے سرمئی فسوں میں ڈوب ڈوب سا گیا
وہ شام ہے بہار کی، وہ رات برگ رِیز کی
وہ فجر کی اذان ہے، سکوت کی زبان ہے
وہ لفظ لفظ دل کشی، وہ حرف حرف سر خوشی
کبوتروں کی مجلسوں میں اُس کا ذکرِ خیر ہے
دھنک کا رنگ رنگ اُس کے پیرہن سے مُلتجی
شاعر : فائق تُرابی
وہ صحنِ خارزار میں چمیلیوں سی تازگی
لہو کے گھونٹ پی گیا، وہ شیر بن کے جی گیا
وہ تیرگی کے دشت میں ہے سبز سبز روشنی
اُسی کی شاخ شاخ پر حیاتِ نو نمو پذیر
وہ موت کے دیار میں ہے رسمساتی زندگی
وہ تتلیوں کا غم گُسار، خوشبوؤں کی یادگار
سدا بہار، گل عذار، عطر بار آدمی
مَیں اُس کے سرمئی فسوں میں ڈوب ڈوب سا گیا
وہ شام ہے بہار کی، وہ رات برگ رِیز کی
وہ فجر کی اذان ہے، سکوت کی زبان ہے
وہ لفظ لفظ دل کشی، وہ حرف حرف سر خوشی
کبوتروں کی مجلسوں میں اُس کا ذکرِ خیر ہے
دھنک کا رنگ رنگ اُس کے پیرہن سے مُلتجی
شاعر : فائق تُرابی