مولانا عبدالرحمن جامی کا ایک شعر ہے:
پردهٔ زُلفَت ز رُخ اُفتاد دُور
أُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِين
(عبدالرّحمٰن جامی)
جس کا مفہوم ہے کہ“ تمہارے چہرے سے زلفوں کا پردہ ہٹ گیا اور تمہارا چہرہ ظاہر ہوگیا گویا متقی لوگوں کے لیے جنت نزدیک کر دی گئی“
شعر اتنا خوبصورت ہے کہ طبیعت رواں ہوئی اور ایک قطعہ کہہ ڈالا۔
قطعہ ملاحظہ ہو آخری شعر مولانا کا ہی ہے بس پہلے مصرع کا منظوم اردو ترجمہ کر دیا ہےـ
قطعہ
شافعِ محشر، شہِ دنیا و دیں!
فخرِ رسل، رحمۃ للعالمین
اوجِ ثریا پہ قدم ہیں ترے
عرشِ معلّٰی کے تمہی ہو مکیں
صادق و مصدوق ہے تیرا لقب
تجھ سا نہیں کوئی جہاں میں امیں
ذکر ترا وردِ زباں ہے اگر
یاد تری قلب میں ہے جاگزیں
ظلمتِ اوہام میں گم تھی خرد
تجھ سے ملا ہے اسے نورِ یقیں
”پردۂ گیسو ترے رخ سے ہٹا
أُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِين“
پردهٔ زُلفَت ز رُخ اُفتاد دُور
أُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِين
(عبدالرّحمٰن جامی)
جس کا مفہوم ہے کہ“ تمہارے چہرے سے زلفوں کا پردہ ہٹ گیا اور تمہارا چہرہ ظاہر ہوگیا گویا متقی لوگوں کے لیے جنت نزدیک کر دی گئی“
شعر اتنا خوبصورت ہے کہ طبیعت رواں ہوئی اور ایک قطعہ کہہ ڈالا۔
قطعہ ملاحظہ ہو آخری شعر مولانا کا ہی ہے بس پہلے مصرع کا منظوم اردو ترجمہ کر دیا ہےـ
قطعہ
شافعِ محشر، شہِ دنیا و دیں!
فخرِ رسل، رحمۃ للعالمین
اوجِ ثریا پہ قدم ہیں ترے
عرشِ معلّٰی کے تمہی ہو مکیں
صادق و مصدوق ہے تیرا لقب
تجھ سا نہیں کوئی جہاں میں امیں
ذکر ترا وردِ زباں ہے اگر
یاد تری قلب میں ہے جاگزیں
ظلمتِ اوہام میں گم تھی خرد
تجھ سے ملا ہے اسے نورِ یقیں
”پردۂ گیسو ترے رخ سے ہٹا
أُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِين“