• فروغ نعت پر رجسٹر ہونے کا طریقہ

    خزف ہوں اور جواہر کی کائنات میں ہوں   ❃   زہے نصیب کہ بزم فروغِ نعت میں ہوں

    محترم/محترمہ۔۔! السلام علیکم

    ہم بزم فروغ نعت میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اس بزم میں رجسٹر ہو کر فروغ نعت کے کارِ خیر میں بھرپور حصہ لیں گے۔ اگر رجسٹریشن میں دشواری ہو تو ہماری رہنمائی ملاحظہ فرمائیں۔

مقالہ نویدؔ اقبال کا جہانِ نعت ۔ایک جمالیاتی و عرفانی مطالعہ۔ تحریر: سید شاکرالقادری

فروغ نعت

Administrator
Staff member
نعتوں کی تتلیاں

نویدؔ اقبال کا جہانِ نعت ۔ایک جمالیاتی و عرفانی مطالعہ

تحریر:پیرزادہ سید شاکرالقادری چشتی نظامی،

مدیرمجلہ”فروغِ نعت اٹک​

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اشک پہنچے تو مری سانس مدینے سے چلی

رابطے رکھے رواں آب و ہوا نے میرے​

یہ شعر ایک ایسے شاعر کا ہے جس کی شاعرانہ زندگی محض پانچ یا چھ برسوں پر مشتمل ہے، مگر اس مختصر عرصے میں اس نے جذبے، مشاہدے اور فکری گہرائی کا وہ رنگ پیدا کیا ہے جوکہنہ مشق شعرا کے ہاں بھی خال خال نظر آتا ہے۔ ابتدا میں اس نے پنجابی غـزل سے اظہارِ ذات کا آغاز کیا، پھر اُردو غزل کے میدان میں قدم رکھا، اورپھر کسی تحریک کے زیر اثر نعت اور سلام کی جانب مائل ہوا، بالآخر نعت گوئی اس کا مستقل حوالہ بن گی۔ یہ تغیراس پر ہونے والی عنایات ربانی کا عکاس بھی ہے اور اس کے فکری سفر کا آئینہ بھی۔ ایک ایسا سفر جس میں شعر و سخن کا ارتقا عشقِ رسولؐ کے عرفان میں ڈھل گیا۔ اب اس کی شاعری میں صرف نعت باقی ہے،اسی سے اس کا دل دھڑکتا ہے، روح کو شادابی ملتی ہے اور نعت ہی کے دم سے وہ زندہ ہے۔

یہ شعرروحانی تجربے کے انتہائی نازک اور لطیف لمحات کی حقیقت کوزبانِ مجاز میں بیان کرتا ہے۔نویداقبال نے ’’اشک‘‘ اور ’’سانس“ یعنی ”جذبے“ اور”حیات“ دونوں کو مدینۂ منورہ کے ساتھ یوں وابستہ کر دیا ہے کہ یہ تعلق صرف محبت کا نہیں، زندگی اور وجود کا استعارہ بن جاتا ہے۔اگر اشکوں کا مدینے تک پہنچنا عشق کے سفر کی انتہا ہےتوسانسوں کا مدینے سے آنا اُس فیض کی علامت ہے جو عاشق کو روحانی وصال کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ یہاں اشک ’’آب‘‘ ہیں اور سانس ’’ہوا“ یوں شاعر نے کائنات کے دو بنیادی عناصر کو عشقِ مصطفیٰؐ کے دائرے میں سمیٹ لیا ہے۔یہی دو عناصر اشکوں اور سانسوں کی صورت میں محب و محبوب کے مابین رابطے اور تعلق کا وسیلہ ہیں۔یہ تلازمہ کاری محض فنی نہیں بل کہ ایک ایسےعرفانی تجربے کی آئینہ دار ہےجس کے تحت شاعر کے لیے عشقِ رسولؐ ہی وہ روحانی نظام ہے جس پر اس کی زندگی، اس کی کائنات اور اس کے احساسات گردش کرتے ہیں۔

اس خوبصورت شعر کے خالق، نوید اقبال کا دوسرا مجموعہ نعت ”نویدِ نجات“ میرے پیشِ نظر ہے۔ اس سے قبل اُن کا پہلا مجموعہ نعت ”عروجِ سخن“ کے عنوان سے شائع ہو کر نعت پسند ادبی حلقوں میں بھرپور پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ ”عروجِ سخن“ میں نوید اقبال نے عشقِ رسول ﷺ کو جس قلبی وارفتگی اور فنی سلیقے سے شعری قالب میں ڈھالا، وہ ان کے نعتیہ شعری مزاج کا آئینہ دار ہے۔ ان کے اشعار میں رسمی مدحت سے ہٹ کر ایک روحانی لطافت اور فکری تازگی نمایاں ہے۔

”عروجِ سخن“ سے آغاز ہونے والے نعتیہ سفر کا دوسرا سنگِ میل نوید اقبال کے لیے ”نویدِ نجات“ کی صورت میں جلوہ گر ہے، جو اُن کے ذوقِ نعت کو نئی توانائی اور فکری مہمیز دے رہا ہے۔ ثنائے خواجہ ﷺ کی مسافت کا یہ پڑاؤ ان کے تخلیقی شعور کی مسلسل نمو اور روحانی ارتقاء کا مظہر ہے۔ علامہ اقبالؒ کے مصرع ”تُو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول“کی معنویت یہاں بطور رہنما اصول محسوس ہوتی ہے۔گویایہ مصرع نوید اقبال کے نعتیہ سفر کی جہت اور ان کی مسلسل جستجو کو خوبصورتی سے اجاگر کرتا ہے۔

مطلع کسی بھی غزل یا نعت کی بنیاد اور پہچان ہوتا ہے۔ یہ وہ پہلا شعر ہے جس میں قافیہ و ردیف کا تعین ہوتا ہے اور اسی کے سانچے پر پوری غزل یا نعت استوار ہوتی ہے۔ مطلع محض آغاز نہیں بلکہ وہ سمت متعین کرتا ہے جس پر شاعر کا جذبہ، خیال اور لہجہ آگے بڑھتا ہے۔ اگر مطلع دلکش ہو تو وہ پوری غزل کی پہچان بن جاتا ہے اور کبھی کبھی اسی ایک شعر سے پوری تخلیق امر ہو جاتی ہے۔ یہی شعر قاری کو پہلی سانس میں شاعر کے احساس، ایمان اور فکری گہرائی سے روشناس کراتا ہے۔ ایک اچھے مطلع میں خیال کی ندرت، لفظیات کی چستی اور قافیہ و ردیف کی خوش آہنگی ناگزیر ہوتی ہے۔ اس میں عقل و جذبے کا حسین امتزاج اور ایسا حسنِ آغاز ہونا چاہیے جو قاری کو آگے بڑھنے پر مجبور کر دے۔ خاص طور پر نعتیہ شاعری میں مطلع کا تعلق عقیدت و روحانیت سے جڑتا ہے، اس لیے اس میں نرمی، ادب اور نیاز مندی کا رنگ نمایاں ہونا لازم ہے۔ نوید اقبال کے مطلعے ان تمام اوصاف کے حسین نمونے ہیں۔ ان میں خیال کی ندرت، زبان کی چستی، اور قافیہ و ردیف کی خوش آہنگی ایک ساتھ جلوہ گر ہے۔ ہر مطلع اپنی جگہ ایک فکری تجربہ اور روحانی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ذیل میں نوید اقبال کے چند مطلعے پیش کرتا ہوں:

ہر ایک سانس کی بے شک ہوا ضرورت ہے

درِ نبیؐ سے نہ آئے تو کیا ضرورت ہے

اس مطلع میں حیاتِ انسانی کو درِ نبوی ﷺ سے وابستہ کر کے عقیدت کی معراج دکھائی گئی ہے۔

ایک اورخوبصورت مطلع دیکھیے:

فضائے مدحت عطا ہوئی ہے

مِری گھٹن بھی ہَوا ہوئی ہے

اس میں نعت کو گھٹن سے نجات اور روح کی تازگی کا وسیلہ قرار دیا گیا ہے،

نویدؔ ایک اور مطلع میں نعت گوئی کے نازک اور پاکیزہ عمل کو رسی پر چلنے سے تشبیہ دیتے ہیں، جو ان کے فنی توازن، فکری احتیاط اور روحانی ذمہ داری کی عکاس ہے۔ ان کے پیشِ نظر وہ قرآنی ہدایت بھی ہے جس میں فرمایا گیا: ”لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا“، یعنی لفظ کے انتخاب میں بھی احترامِ رسالت ملحوظ رکھا جائے۔ نویدؔ کے ہاں یہ شعور پوری طرح کار فرما ہے۔ وہ نعت کہتے ہوئے لفظوںکےخارزار میں اس طرح قدم رکھتے ہیںکہ دامنِ ادب کہیں الجھ کر نہ رہ جائے۔ملاحظہ کیجیے:

نعت میں یوں سنبھل رہا ہوں میں

جیسے رسّی پہ چل رہا ہوں میں

ایک اور مطلع دیکھیے جو اپنی ساخت، خیال اور عقیدت کے توازن کےاعتبار سے ایک خوبصورت مثال ہے۔

لوح و قلم کلام کی زینت حضورؐ ہیں

واللہ کُن سے کہنہ عبارتـ حضورؐ ہیں

یہاں دو بنیادی تصورات” تخلیقِ کائنات“ اور” کمالِ رسالت“ کو ایک ہی استعاراتی نظام میں یکجا کر دیا گیا ہے۔”لوح “،” قلم“ اور”کلام“ کی زینت کو نبیِ اکرمؐ کی ذات سے مربوط کیا گیا ہے۔ گویا کائنات کی زبان، وحی کی تحریر اور علم کی ابتدا سب ان کی نسبت سے معنویت پاتے ہیں۔ دوسرے مصرع میں” کُن سے کہنہ عبارت“ کہہ کر نوید نے اپنی فکری بلاغت کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ یہاں”کُن“ سے مراد وہ امرِ الٰہی ہے جس سے وجود نے ظہور پایا۔ گویا پوری کائنات کا ماقبل، ماحصل اور مرکزی معنی حضورؐ کی ذات ہے۔علامہ اقبالؒ کا شعر ہے:

آیۂ کائنات کا معنیِ دیر یاب تُو

نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بُو

”کن“ کے امر الٰہی سے وجود میں آنے والی کائنات کے ”معنی دیریاب“ کو نویداقبال نے”کن سےکہنہ عبارت“ کہہ کرنیا رنگ دیا ہے۔اگرچہ نگاہِ ظاہر بین کو اس کے استعمال میں تضاددکھائی دے گا، مگر معنوی طور پر یہ ”قدامت“ اور”ازل“ کے مفہوم کو ادا کرتا ہے۔ یعنی نبیِ کریمؐ ازل سے مظہرِ نورِ الٰہی ہیں۔ اس میں ایک لطیف عرفانی پہلو بھی موجود ہے۔ اگر”کُن“ تخلیق کاحرفِ اول ہے تو ’’محمدؐ‘‘ اس حرفِ اوّل کی معنوی تعبیر ہیں۔نوید اقبال نے اس مطلع کے دو مصرعوں میں عقیدت و عرفان کا ایک جہانِ معنی آباد کر دیا ہےـ۔

ایک اورمطلع میں نوید اقبال نے حمد و نعت کے مابین ایک لطیف فکری ربط دکھایاہے:

حمد کہتے ہوئے مدحت کا سرا ملتا ہے

اذنِ مدحت ہو تو، پھر حمد سے جا ملتا ہے

نویدؔ کا یہ شعر نعتیہ شاعری کے فکری و روحانی پس منظر کا نہایت نازک اور گہرا نکتہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس کے خیال میں”حمد“ اور ”مدحت“ دوجداگانہ راستے نہیں بلکہ ایک ہی نورانی سفر کے دو مرحلے ہیں۔اس کے ہاں معرفتِ خداوندی سے معرفتِ رسولؐ کا در کھلتا ہے، اور معرفتِ رسولؐ سے معرفتِ حق تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔نوید کے نزدیک نعت صرف شاعری نہیں بلکہ عطائے مصطفویؐ کا فیضان ہےاورجب یہ اذن و عنایت میسر آ جائے تو نعت گوئی خود حمد کا تسلسل بن جاتی ہے یوں حمد، مدحت میں ڈھلتی ہے اور مدحت آخرِ کار حمد سے جا ملتی ہے۔ فکری سطح پر یہ شعر توحید و رسالت کے باہمی تعلق واتحاد کی علامت ہے۔یہ نسبت اس وقت مزید گہری محسوس ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ رسولِ کائنات ﷺ کے اسمائے مبار ک محمدؐ، احمدؐ، حامدؐ، محمودؐ سب کے سب ”حمد“ کے مادے سے مشتق ہیں۔ گویا ”حمد“ کا مفہوم خود ذاتِ مصطفویؐ میں جلوہ گر ہے۔ اور یہی شعور نویدؔ کے نعتیہ اسلوب کو فکری گہرائی اور روحانی وسعت عطا کرتا ہے۔

نوید اقبال کے یہ مطلعے ثابت کرتے ہیں کہ ان کی نعت گوئی میں فکری گہرائی اور روحانی لطافت دونوں یکجا ہیں، اور وہ نعت کے آغاز ہی سے قاری کو عقیدت کی ایک نرم اور دل آویز روشنی کے ہالے میں داخل کر دیتے ہیں۔

جہاں تک نعت کے موضوعات اور مضامین کا تعلق ہےان میں نعت گوئی کے آغاز سے ہی رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق،محبت، مودَّت اور عقیدت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔اس بنیادی مرکز و محور کے ساتھ ساتھ قرآنی مضامین سیرت ، احادیث کی روشنی میں اسوۂ حسنہ، معجزات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، تعلیمات اور فیضانِ رسالت جیسےمضامین بھی ابتدا ہی سےشامل رہے ہیں۔

نعت تو در حقیقت ”شجرۂ طیبہ“ ہے۔۔۔۔ ایک ایسا ”شجرۂ طیبہ“ ۔۔جس کی جڑیں زمین میں خوب گہری اور شاخیں آسمانوں تک پھیلی ہوں۔اس درخت کے تنے سے شاخیں اور شاخوں سے نئی شاخیںپھوٹتی رہتی ہیں، اسی طرح نعت میں بھی نئے نئے موضوعات اور مضامین پیدا ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گےکیوں کہ ان کا تعلق انسانی زندگی کے ہرسماجی، تہذیبی،ثقافتی ،فکری، نفسیاتی، معاشی ، عمرانی اور سیاسی پہلو سے ہے۔

باغباں نعت کا ایسا ہے کہ پتاّ پتاّ

نخلِ مدحت کا ہمہ وقت ہرا ملتا ہے

نویدؔ کی شاعری میں بھی حب رسولؐ کے موضوع کو مرکزی اورمحوری حیثیت حاصل ہے۔ اُن کے موضوعات عشق، یقین اور روحانیت کے ایسے پیکر ہیں جو ایک طرف کلاسیکی نعتیہ مضامین سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں تو دوسری طرف جدید قاری کے ذوق و احساس کے لیے تازہ تجربے کی صورت پیش کرتے ہیں۔ نویدؔ نے نعت کے روایتی مضامین کو محض دہرایا نہیں بلکہ اُن میں نئی معنوی تازگی اور فکری حرارت پیدا کی ہے۔ اُن کے ہاں عقیدت جامد نہیں بلکہ ایک متحرک جذبہ ہے جو تخلیق کے ہر موڑ پر نئے رنگ، نئے لہجے اور نئے انکشاف کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ یہی امتزاج اُن کی نعتیہ شاعری کو روایت کی پاسداری اور جدّت کی جمالیات دونوں کا حسین سنگم بنا دیتا ہے۔

بےستوں ہم نے سمجھ رکھا ہے جو چرخِ کہن

سبز گنبد کےسہارے ہی کھڑا ملتا ہے

اور:

رات بھر ہوتا ہے رخ میرا مدینے کی طرف

دن جو نکلے تو اسی سمت میں سایا جائے

نوید اقبال کا ایک اور اہم موضوع محبتِ اہلِ بیتؑ ہے۔ ان کے نزدیک یہ محبت ایمان کی بنیاد اور روحانیت کی معراج ہے۔ قرآن مجید میں اہلِ بیتؑ کی محبت کو امتِ مسلمہ پر واجب قرار دیا گیا ہے:

قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ (الشورى: 23)

یعنی ”میں تم سے اپنی رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے اس کے کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔“

یہ آیتِ کریمہ نبی اکرم ﷺ کے اہلِ بیتؑ کی محبت کو ایمان کا حصہ اور قربِ رسولؐ کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔ اسی طرح متعدد احادیث میں بھی اہلِ بیتؑ کی محبت کو نجات، ہدایت اور ایمان کی علامت بتایا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:

” من أحبّــــــهــــم أحبّـــنی ومن أبغضـــهم أبغــــــضــــــنی“

(مسند امام احمد)

یعنی ”جس نے ان سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔“

نعت کے روحانی تناظر میں اہلِ بیتِ اطہارؑ کا ذکر کوئی جداگانہ باب نہیں بلکہ خود مدحِ رسولؐ کا تسلسل اور تکملہ ہے۔ جس طرح نبی اکرم ﷺ نے اپنے اہلِ بیتؑ کو اپنی ذاتِ اقدس سے جدا نہیں جانا، جس طرح درود میں آل کا ذکرنہ ہو تووہ مکمل نہیں ہوتا”صلاة بترا“ہی[SQ1] رہتا ہے۔اسی طرح نعتیہ شاعری سے بھی اہلِ بیت اطہارؑ کےذکر کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ نویدؔ اقبال کےنذدیک نعت کا چراغ اسی وقت مکمل طور پر روشن ہوتا ہے جب اس کی لو میں محبتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی شامل ہو۔ ان کے ہاں نعت صرف مدحِ مصطفیٰؐ نہیں بلکہ اُس خاندانِ طیب و طاہر کی محبت کا عقیدت نامہ بھی ہے جس کے بغیر نعت کا مفہوم ادھورا رہ جاتا ہے۔ گویا ذکرِ اہلِ بیتؑ، ذکرِ رسولؐ ہی کی ایک لطیف تجلی ہے جوآسمانِ نعت پر نور کی طرح پھیلتی ہے۔چند اشعار بطورِ نمونہ ملاحظہ ہوں:

برائے آلِ ﷴ نویدِ ”کوثر“ نے

عدو کا قصۂِ نام و نسب تمام کِیا

۔۔۔۔

ہارونؑ سے موسیؑ کے تعلق نے بتایا

رشتے میں کوئی احمدؐ و حیدؑر سا نہیں ہے

۔۔۔۔

آلِ نبی ؐ نکالے گا جو بھی درود سے

واجب ہے ورد اُس پہ دوبارہ درود کا

۔۔۔۔

آلِؑ اطہر کی مؤدّت کے علاوہ ، آقاؐ

کچھ نہیں لیتے مگر بیش بہا دیتے ہیں

نویدؔ کی نعتیہ شاعری اس عہد میں سامنے آئی ہے جب نعت محض مذہبی وابستگی کا اظہار نہیں رہی بلکہ ایک فکری و روحانی تجربہ بن چکی ہے۔ ان کے اسلوب میں عقیدت کے ساتھ ساتھ ایک خاص فکری شعور، لسانی تازگی اور روحانی انکسار نمایاں ہے۔ ان کی نعت گوئی روایت سے جڑی ہوئی ہونے کے باوجود اس روایت کے اندر ایک نئی روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ان کا کلام اپنی فکری سنجیدگی اور روحانی شفافیت کے باعث معاصر نعتیہ روایت میں ایک الگ پہچان رکھتاہے۔ اُن کے ہاں زبان کا آہنگ نرم، مؤدب اور متین ہے ایسا جیسے ہر لفظ وضو کر کے شعر میں داخل ہو۔

چشمِ زدن میں کر کے وضو چشمِ نم کے ساتھ

حرف و خیال رحلِ عقیدت پہ آ گئے

وہ نعت کہتے ہوئے شعری صنعتوں یا لفظی بازی گری کے بجائے روح کی سچائی پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان کے مصرعوں میں ’’ہنر‘‘ سے زیادہ ’’کیف‘‘ بولتا ہے۔ نویدؔ کے یہاں عقیدت اظہار نہیں، تجربہ ہے۔ ایک باطنی واردات جو شعر کے قالب میں ڈھلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لہجے میں نہ تصنع ہے نہ مبالغہ، بلکہ حضورؐ سے ربطِ قلب کی ایک خالص صورت نمایاں ہے۔

نعت گوئی ہے فقط اذن و عطائے آقاؐ

اس میں کب حرفِ ہنر مدِّ نظر رہتا ہے !

نویدؔ کا اسلوب کلاسیکی روایت کی تہذیب اور جدید احساس کی تازگی دونوں کو یکجا کرتا ہے۔ وہ قاری کو نعت کے نورانی دائروں میں یوں داخل کرتے ہیں کہ شعر دعا بن جاتا ہے اور عقیدتشعور و وجدان کے حسین امتزاج میں ڈھل جاتی ہے۔ ان کے ہاں نعت محض اظہارِ عقیدت نہیں بلکہ روح کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ یہی کیفیت اس شعر میں جلوہ گر ہے:دف بجاتی ہوئی دھک دھک کی صدائیں کب سےدل کے یثرب کو مدینے میں بدلنا چاہیںیہاں شاعر نے دل کو "یثرب" کہا ہے، ایک ایسا مقام جو رسول کائنات ﷺ کی آمد سے قبل بیماریوں، دکھوں اورمصائب و آلام کا استعارہ تھا۔ لیکن جب آپ ﷺ وہاں جلوہ افروز ہوئے تو وہی یثرب ”مدینہ“ بن گیا۔۔۔۔ نور، شفا اور طہارت و پاکیزگی کا گہوارہ۔۔ مدینہ۔ نویدؔ کے نزدیک دل بھی اسی طرح کا یثرب ہے، جو حضورؐ کی محبت سے منور ہو کر مدینہ میں بدل سکتا ہے۔ اس شعر میں”دل کی دھڑکن“ کو ”دف“ سے تشبیہ دینا محض صوتی یا جمالیاتی حسن نہیں بلکہ”ثنیاتِ دل پر طلوعِ بدر“ کا ایک گہرا روحانی اشارہ ہے۔یہ دل کی عقیدت بھری بے قراری ہے جو نعت کے آہنگ میں نغمگی بن جاتی ہے۔

دف بجاتی ہوئی دھک دھک کی صدائیں کب سے

دل کے یثرب کو مدینے میں بدلنا چاہیں

ان کی شاعری میں تشبیہات و استعارات بھی پاکیزگی کے پردے میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ اشک، سانس، روشنی، چراغ، تتلیاں اور آب و ہوا جیسے عناصر اپنے مادی مفہوم سے بلند ہو کر مابعدالطبیعیاتی اشارات میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہ تمام پیکر ایک الہامی کیمیائی عمل سے گزرتے ہیں، جس کے اثر سے الفاظ، خیالات اور محسوسات نورانی ماہیت اختیار کر لیتے ہیں۔ گویا معمولی الفاظ بھی عشق و عطا کے لمس سے نعت کا زرّیں پیکر بن جاتے ہیں۔ ان کے ہاں موجود محاکات اورخارجی مناظر اُن کے داخلی محسوسات کی صورت گری کرتے ہیں۔ان کی ایک نعت جس کی ردیف”نعتوں کی تتلیاں“ ہے۔ ان کے اسلوبی اور فکری جہان کی ایک خوبصورت اور نادر مثال ہے:

باغیچۂِ مقال میں نعتوں کی تتلیاں

اُڑتی پھریں خیال میں نعتوں کی تتلیاں

اس نعت میں نویدؔ نے “تتلی” کی علامت کے ذریعے نعت کو ایک زندہ، متحرک، اور رنگوں سے لبریز روحانی واردات کے طور پر پیش کیا ہے۔ تتلی محض حسن و نزاکت کی علامت نہیں بلکہ رنگ ، نور اور خوشبو کے درمیان ایک لطیف رابطہ کی صورت ہے۔ وہ نعت کے تخلیقی عمل میں الہام کے نزول،تخیل کی پرواز، اور عشقِ رسولؐ کی نورانیت و لطافت کی نمائندہ بنتی ہے۔یہاں “باغیچۂ مقال”، “اذن و عطا کا باغ”، “گلدستۂ کمال” اور “گنبدِ خضریٰ” جیسے استعارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شاعر کے نزدیک نعت گوئی ایک روحانی اقلیم ہے، جہاں الفاظ محض حروف نہیں بلکہ عطائے مصطفویؐ کے فیض سے جیتے جاگتے مظاہر ہیں۔

نویدؔ کا اسلوب اپنے اندر ایک مابعدالطبیعیاتی وسعت(Metaphysical vastness) رکھتا ہے ان کے ہاں نعت ایک جمالیاتی تجربے سے ماورا ہو کر روحانی انکشاف کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ تتلی کی علامت، جو رنگ، حرکت، لطافت اور روشنی کے میل سے بنتی ہے، دراصل شاعر کے باطن میں اترنے والی نعتیہ کیفیات کی تجسیم ہے۔نویدؔ کے ہاں یہ تتلیاں صرف تخیل کی پرواز نہیں بلکہ ایمان کی لطافتوں کا مظہر بھی ہیں۔ وہ لفظ کو “اذن و عطا کے باغ” سے اُڑتی ہوئی تتلی بنا کر بتاتے ہیں کہ نعت گوئی میں تخلیق، عطا اور دعا تینوں ایک ہی روحانی سطح پر متحد ہو جاتے ہیں۔ ان کی زبان میں نزاکت ہے، ان کے خیال میں تقدیس، اور ان کے اسلوب میں وجدانی صفائی یہی صفات نویدؔ کے کلام کو کلاسیکی روایت سے جوڑ کر جدید فکری حسیت کی تازگی عطا کرتی ہیں۔

کوئی لباسِ خلد میں ، آیا ، تھما گیا

مجھ کو ہرے رُمال میں نعتوں کی تتلیاں

نویدؔ کے ہاں محاکات محض مناظر کی نقّالی نہیں بلکہ باطن کی کیفیات کی تصویری تجسیم ہے۔ وہ خارجی مناظر کے پردے میں دل کے اندرجنم لینے والے احساسات کو منعکس کرتے ہیں، یوں ان کی نعتوں میں منظر اور معنی ایک دوسرے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ دعا کے دونوں سرے” دست درود“ میں ہوںاور”نعتوں کی تتلیاں“ سوالوں کی صورت میں رقص کناں ہوں تو دعابابِ قبول سے بچ کر کیسے گزر سکتی ہے۔دیکھیےنوید کے ہاں کس طرح دعا، درود اور نعت ایک ہی روحانی نغمے کے مختلف سر بن کر ”انھدترانہ“ تخلیق کرتے ہیں۔

دونوں سِرے دعا کے ہیں دستِ درود میں

اور ہیں مرے سوال میں نعتوں کی تتلیاں

نوید اقبال کا ایک اور خوبصورت شعر دیکھیے:

نعت اُگتی ہے دل کی دھرتی پر

بات کرتا ہے آسماں دل کی

تتلیاں اگر الہام کی حرکت اور رنگ و روشنی کی لطافت کی علامت تھیں، تو یہ شعر نعت کے اسی الہامی عمل مبداء و منتہی کو ظاہر کرتا ہے۔یہ نویدؔ کے نعتیہ شعری نظام کا ایک نہایت دل نشیں اور فکری استعارہ ہے۔ یہاں”دل کی دھرتی“ محض احساس یا جذبے کی زمین نہیں بلکہ تخلیقِ نعت کی وہ باطنی اقلیم ہے جہاں عشقِ رسولؐ کا بیج الہام کی بارش سے پھوٹتا ہے۔ نعت کو “اُگنے” سے تعبیر کرنا بتاتا ہے کہ نویدؔ کے نزدیک نعت کوئی اختراعی اظہار نہیں بلکہ ایک فطری نمو(Growth) ہے۔دل کی زمین سے جنم لینے والی روحانی فصل۔۔۔ دوسرے مصرعہ میں”آسماں دل کی بات کرتا ہے“ اس باطنی عمل کو کائناتی ربط سے جوڑ دیتا ہے؛ گویا نعت وہ زبان ہے جو زمینِ دل اور آسمانِ رحمت کے مابین مکالمہ کرتی ہے۔ اس شعر میں دھرتی ،دل ،نعت اور آسمان کے خوبصورت تلازمے نوید کے شعری سلیقہ کا اظہاریہ ہیں جن سےنوید کی کشتِ دل سےپھوٹنے والانہالِ نعت آسمانی صداقتوں سے بغل گیر ہو جاتا ہے۔

نویدؔ کا فنی شعور بحور کی نغمگی اور داخلی موسیقیت سے گہری آگاہی رکھتاہے۔ وہ عموماً ایسی رواں دواں بحریں اختیار کرتے ہیں جن میں بے ساختگی، ترنم اور غنائیت خود بخود جنم لیتی ہے۔ نویدؔ کے کلام میں آہنگ کی لطافت نمایاں ہے؛ وہ وزن کو محض عروضی تقاضا نہیں سمجھتے بلکہ اسے جذبے کے تسلسل اور احساس کی روانی کا جزو لازم بناتے ہیں۔ ان کے مصرعے ایک دوسرے میں یوں مدغم ہوتے ہیں کہ پڑھنے والا وجد و سرور کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے۔ یہی داخلی ترنم نویدؔ کی نعت کو محض شعر نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے روح کی بالیدگی کا ایک لطیف سامان بنا دیتا ہے۔ ان کے مصرعے غنائیت سے لبریز ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قاری الفاظ کو پڑھتا نہیں بلکہ انہیں اپنی سماعت میں پریم رس کی مانند بوند بوند چکھتا ہے۔

تار جس دل کے لگا تار مدینے سے ملے

اس کے آثار کئی بار مدینے سے ملے

نویدؔ کی نعت گوئی میں روایت و جدت، محبت و وجدان، لفظ و نور سب ایک ہی آہنگ میں سانس لیتے ہیں۔ اُن کا اسلوب اس حقیقت کا مظہر ہے کہ وہ نعت کو اپنی فنی ہنروری نہیں بلکہ حضورِ اکرمؐ کی عطا سمجھتے ہیں۔وہ نعت کو حضوری کا وسیلہ جانتے ہیں۔ان کے نزدیک نعت ہی”عروجِ سخن“ ہے اور نعت ہی ”نویدِ نجات“۔ یہی احساس ان کے لہجے کو تقدیس اور تاثیر عطا کرتا ہے:

میرا سخن انھی سے ”نویدِنجات“ ہے

میرے سخن کی اُنؐ سے ملاقات ہو گئی

نویدؔ کی نعتیہ شاعری کا بنیادی جوہر عجز و انکسار ہے۔ ان کے ہاں نعت محض ادبی یا فنی اظہار نہیں بلکہ روحانی وابستگی اور عشقیہ نیازمندی کا عملی مظہر ہے۔ ان کے نزدیک مدحِ سرورکائناتؐ کوئی تخلیقی سرگرمی نہیں بلکہ اذن و عطائے مصطفویؐ ہے۔یہ ایک ایسی سعادت جو صرف انہیں نصیب ہوتی ہے جنہیں بارگاہِ نبویؐ میں قبولیت کا شرف حاصل ہو۔یہی باطنی شعور ان کے لہجے کو تقدیس، انکسار اور روحانی وقار کا پیکر بنا دیتا ہے۔ نویدؔ کا اندازِ بیان بتاتا ہے کہ وہ نعت کہتے ہوئے اپنی ذات کو محو کر دیتے ہیں؛ ان کے اشعار میں ”میں“ کا وجود مٹ کر ”وہ“ میں ڈھل جاتا ہے۔ اُن کا ایمان ہے کہ جب اذن و عطا کی دولت نصیب ہو جائے تو رنگِ ہنر خود بخود نکھر جاتا ہے، سخن کو جوہرِ تاثیر اور لہجے کو دولتِ توقیر مل جاتی ہے۔ان کے اسلوب میں بلاغت و صنعت کی چمک کے ساتھ عقیدت و خشوع کی دمک شامل ہے۔ ان کے ہاں لفظ؛ معنی و بلاغت سے نہیں بلکہ اخلاص و صداقت سے معتبر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نویدؔ کے کلام میں ہر مصرع ایک دعا بن کر سنائی دیتا ہے:

نعت گوئی ہے فقط اذن و عطائے آقاؐ

اس میں کب حرفِ ہنر مدِّ نظر رہتا ہے

نوید اقبال کا نعتیہ اسلوب اس لیے اہم ہے کہ وہ روایت و جدت، عقیدت وتخیل اور روحانیت و فطرت کو ایک ہی دھارے میں رواں کرتے ہیں۔ اُس کی شاعری میں نعت سانسوں کی طرح بہتی ہے اور اشکوں کی طرح چمکتی ہے۔اُس کے اشعار اس نئی نعتیہ فکرکے عمدہ مظاہر ہیں جو عقیدت کو صرف مذہبی جذبہ نہیں بلکہ کائناتی احساس میں بدل دیتی ہے۔نویدؔ نے نعت کو صرف روایتی عقیدت سے نہیں بلکہ جدید فکری اور لسانی شعور سے آراستہ کیا ہے۔ان کے ہاں نعت صرف ماضی کی روایت ہی نہیں بلکہ حال کی ضرورت بھی ہے۔وہ نعت کو ایک ایسی صنف بناتے ہیں جس میں محبت، عقل، عرفان اور جدید حسیت یکجا ہو جاتی ہے۔

نویدؔ کا نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کا ایسا بحر بے کنارہے جس میں عقیدت کی موجیں اور فنی شعور کی گہرائیاں ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں۔ شاعر کی شاعری کی عمر اگرچہ محض چند برسوں پر محیط ہے، مگر جس پختگی اور ہنر مندی سے وہ نعتیہ مضامین بُن رہا ہے، وہ روایت کی کوکھ سے جنم لینے والی جدت کے تسلسل کا قابل تقلیدنمونہ ہے۔

نویدؔ کانعتیہ کلام اس کے فکری ارتقا کا سفر بھی دکھاتا ہے، ان کاایک اور وجد آفرین شعر دیکھیے اور سر دھنیے:

جب بھی مدحت میں مہِ تاب سجانا چاہوں

حجرۂ نعت میں دو لخت پڑا ملتا ہے

یہ صرف ایک خیال نہیں، بلکہ نعتیہ شعور کی وہ رفعت ہے جہاں شاعر کا تخیل معجزۂ فن سے ہم آغوش ہو جاتا ہے۔مصرعۂ نعت میں مہتاب سجانا اور پھراسی چاند کا حجرۂ نعت میں دولخت پایا جانا معجزۂ ”شق القمر“ کی جانب ایک خوبصورت،بلیغ اور لطیف اشارہ ہےجو شاعر کی فنی مہارت اور تخیل کی بلندپروازی کا شاہد ہے۔ ماہتاب۔۔ جو حسن و جمال کی علامت ہے، در اصل وہ حسنِ کائنات ﷺ کی بارگاہ کا دریوزہ گر ہے۔وہ انؐ کے حضور میں سراپا نیاز ہے۔ شاعر کے لیے یہ احساس ایک روحانی اور تخیلاتی انکشاف ہےکہ جس ماہتاب کو وہ نعت میںحسن کے استعارہ کے طور پر شامل کرنا چاہتا ہے، وہ تو نبی مکرم کی ایک جنبش انگشت پر فدا ہوکر دو لخت ہو جاتا ہے۔یہ احساس اس خیال کو دوچند کر دیتا ہے کہ نعت گوئی صرف ہنرمندی اور فن کاری نہیں، ایک روحانی جستجو ہے، جہاں تخیل ادب سے جھک جاتا ہے، اور حسنِ بیان خود اپنی حدوں سےآگے بڑھنے سے قاصر و شرمندہ ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب نعت گو شاعر، ماہتاب کو نعت میں سجانے کے بجائے، اس کے دو لخت ہونے میں ہی نعت کا حسن تلاش کرنے لگتا ہے۔یہی وہ فکری ارتقاء، طلب اور جستجوہے جو نوید اقبال کے نعتیہ اسلوب کو ممتازبناتی ہے۔

نویدؔ کا اسلوب سہلِ ممتنع کی درخشاں روایت کا تسلسل ہے۔ وہ مشکل خیالات اور دقیق روحانی تصورات کو سادہ، شفاف اور رواں زبان میں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے مصرعے بظاہر سادہ ہیں، مگر ان کی معنوی گہرائی قاری کو دیر تک اپنے اندر جذب رکھتی ہے۔ شعر:

دمِ عیسیٰؑ سے جو توقع تھی

اب مدینے کے نامہ بر سے ہے

بین الانبیائی تلازمےکی حسین مثال ہے۔ شاعر نے “دمِ عیسیٰؑ” کو اعجازِ حیات اور “مدینے کے نامہ بر” کو پیغامِ رحمت کے استعارے کے طور پر برتا ہے۔ دو مختلف ادوار کے انبیائی مظاہر ایک ہی روحانی تسلسل میں یوں جا ملتے ہیں کہ شعر معنوی وحدت کی ایک لطیف اور منور صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں نویدؔ نے عظیم فکری مضمون کو سادہ ترکیب میں سمو کر سہلِ ممتنع کی حقیقی روح کو مجسم کر دیا ہے۔اسی طرح ایک اورشعر:

پسینہ پہنتے پھریں پارسا

لعابِ دہان و زباں روشنی

نویدؔ کی فکری اور لسانی مہارت کا شاہکار یہ شعر محض لفظی صنعت نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیّت کی شعری تجسیم ہے۔ جورسول کائنات ﷺ کی قربت نصیب ہونے والوں کو حاصل تھی۔ احادیث و روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا پسینہ مشک سے زیادہ خوشبودار تھا، اور صحابہ کرامؓ اسے بطور تبرّک محفوظ کرتے تھے:۔

"حدّثني أحمد بنُ سعيد بنِ صخر الدارميُّ، حدّثنا حبان، حدّثنا حمادٌ، حدّثنا ثابتٌ عن أنسٍ-رضي الله عنه- قال: كان رسولُ الله -صلّى الله عليه وسلّم- أزهرَ اللَّون، كأنَّ عرقَه اللؤلؤُ، إذا مشى تكفّأ، ولا مَسِستُ دِيباجةً ولا حَريرةً ألينَ مِن كفِّ رسولِ الله -صلّى الله عليه وسلّم-، ولا شممتُ مِسكةً ولا عنبرةً أطيبَ مِن رائحةِ رسولِ الله -صلّى الله عليه وسلّم".

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا رنگ مبارک نہایت چمکدار تھا، آپ کاپسینہ مبارک ایسا تھا گویا موتی (کے قطرے)ہوں ، جب آپ چلتے تو آگے کو جھکتے ہوئے چلتے، اور میں نے کسی ریشم اور ریشمی کپڑے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی مبارک سے زیادہ نرم نہیں پایا، اور میں نے کسی مشک یاعنبر کو نہیں سونگھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(کے پسینہ مبارک) سے زیادہ خوشبو دار ہو‘‘۔

(صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب طيب رائحة النبي-صلى الله عليه وآلہ وسلم)

اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ:

"حدّثني زُهير بنُ حَرْبٍ، حدّثنا هاشمٌ يعني ابنَ القاسم، عن سُليمان عن ثابتٍ عن أنس بنِ مالك-رضي الله عنه- قال: دخل علينا النبيُّ -صلّى الله عليه وسلّم- فقال عندنا، فَعرِق، وجاءتْ أُمِّي بِقارُورةٍ، فجعلتْ تَسلتُ العرقَ فيها، فَاستيقظ النبيُّ -صلّى الله عليه وسلّم- فقال: يا أُمَّ سُليم! مَا هَذا الذي تَصنعينَ؟قالتْ: هَذا عرقُك، نَجعلُه في طِيبنا، وهو مِن أطيبِ الطِّيب".

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا، آپ کو پسینہ آیا تو میری والدہ( حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبد اللہ کی رضاعی خالہ تھیں ) ایک شیشی لے آئیں اور آپ کا پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر اُس میں ڈالنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بیدار ہوگئے اور دریافت فرمایا: اے امّ سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ اُنہوں نے عرض کیا: یہ آپ کا پسینہ مبارک ہے ،جسے ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے، اور یہ سب سے اچھی خوشبو ہے‘‘۔

(صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب طيب عرق النبي-صلى الله عليه وسلم)

شاعر نے اسی پس منظر کو جدید لسانی زاویے سے برتا ہے، جہاں ”پہننا“ (to wear) کا مفہوم خوشبو یا نورِ قربت کو اختیار کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ گویا جو خوش نصیب اس پسینۂ اطہر سے مَس ہو گئے، وہ پاکیزگی ، نورانیت اورخوشبو کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔یوں یہ مصرع ایک ساتھ روایتی عقیدت، لسانی جدت، اور روحانی تاثر تینوں سطحوں پر معنی پیدا کرتا ہے۔یہاں زبان کی سادگی میں معنی کی گہرائی چھپی ہے، اور یہی سہلِ ممتنع کی اصل پہچان ہے۔

۔ نویدؔ اقبال کی نعتیہ شاعری کا مطالعہ قاری کو اس جہانِ معنی میں لے جاتا ہے، جہاں ہر شعر ایک نیا افق وا کرتا ہے اور ہر ترکیب ایک تازہ الہام بن جاتی ہے۔ میں کس شعر کا انتخاب کروں اور کس کی پرتیں کھولوں کہ نویدؔ کا ہر شعر اپنی دل آویزی، تہہ داری اور حسنِ عقیدت کے ساتھ ساتھ کمالِ فن اور جمالِ فکر کا آئینہ دار ہے۔ اُن کے ہاں نعت محض اظہار نہیں بلکہ تخلیقِ احساس ہے؛ صرف عقیدت نہیں، بلکہ تجلّیِ معرفت ہے۔ سو میں شاعر اور قاری کے درمیان زیادہ حائل نہیں رہنا چاہتا۔ جب قاری اُن کے مجموعۂ نعت کا مطالعہ کرے گا تو اس پر اُن کی شاعری کے وہ گوشے بھی منکشف ہوں گے جن کی طرف میں بخوفِ طوالت اشارہ نہ کر سکا۔

نویدؔ کے شعری نظام میں اچھوتی تراکیب کی جدت، سہلِ ممتنع کی شستگی، اور تغزل کی شیرینی یوں باہم آمیز ہیں کہ لفظ معنی کا پیکر بن جاتے ہیں، اور معنی نور کا جلوہ۔ ان کے ہاں تلمیحات کے دُر، استعارات کے جواہر، اور محاکات کے نگینے ایک ہی تاجِ سخن میں جڑے ہوئے ہیں۔ اُن کی نعتوں میں ادب کی لطافت، عقیدت کی گرمی، اور جذبے کی وارفتگی ایک دوسرے میں یوں تحلیل ہیں کہ ہر مصرعہ تسبیح کے دانے کی طرح ذکرِ مصطفیٰ ﷺ بن جاتا ہے۔

بلا شبہ نویدؔ اقبال کا یہ مجموعہ نعت افقِ نعت گوئی پر ایک درخشندہ ستارے کی مانند ہے۔ ان کی شاعری نعتیہ روایت میں نئے اسلوب، نئے احساس، اور نئے عرفان کی نوید ہے۔ یہ کلام اہلِ محبت کے لیے تسکینِ دل، اہلِ ادب کے لیے سرمۂ بصیرت، اور اہلِ ایمان کے لیے انوارِ رسالت کی تجلی ہے۔

آخر میں اس قطعہ تاریخ اشاعت کے ساتھ دعا گو ہوں کہ ان کی یہ کاوشِ سخن، بارگاہِ مصطفویؐ میں باریاب ہو کر اُن کے لیے ”نویدِ نجات“ بن جائے۔۔ وہ نجات! جس کی خوشبو ان کے ہر شعر سے مہکتی ہے۔

تجھ پر ہے اُنؐ کا لطف و کرم، التفات ہے

حمد و ثنائے خواجہ تری کائنات ہے

بر آسمانِ نعت درخشید نجمِ نو

یعنی طلوعِ اخترِ صبحِ نجات ہے

شاکر ہوا ہے مصرعِ تاریخ بے ”کجی“

”فیضان حمد و نعت نوید نجات ہے“

۲۰۵۸- ۳۳=۲۰۲۵ء
 
Top