ارشد محمود ناشاد
ارشد محمود ناشاد یکم جنوری ۱۹۷۰ ءکو ضلع اٹک کے ایک دور افتادہ اور پس ماندہ گاؤں ڈومیال میں اصغر علی کے گھر میں پیدا ہوئے۔سیماب پائی کے باعث ثانوی تعلیم کی تکمیل تک متعدد ادارے تبدیل کیے۔بالآخر۱۹۸۶ء میں ایف جی بوائز ہائی سکول اٹک سے میٹرک کا امتحان درجہ اول میں پاس کیا۔۱۹۸۸ء میں گورنمنٹ کالج اٹک سےایف۔ اےکا امتحان( درجہ دوم ) اور۱۹۹۱ء میں جامعہ پنجاب، لاہور سے بی۔اے (درجہ دوم) میں پاس کرنے کے بعدمختلف اداروں میں ملازمت کرتے رہے اور ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی۔۱۹۹۳ء میں جامعہ پنجاب سے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے ایم۔اےاردو( درجہ اول) اور ۱۹۹۵ء میں ایم۔اےپنجابی(درجہ دوم) کی تکمیل کی۔بعد میں گجرانوالہ کے ایک معروف تعلیمی ادارے پاکستان انٹرنیشنل پبلک سکول اینڈ کالج سے بہ طور استاد منسلک رہے۔ 11 /مارچ 1997ء کوگورنمنٹ کالج آف کامرس، اٹک میں بطور لیکچرار(اردو) تعینات ہوئے۔ازاں بعد۲/نومبر۲۰۰۷ء کوعلامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی، اسلام آباد میں بطورلیکچرار (اردو) شمولیت اختیار کی،۱۴/جولائی۲۰۱۱ء کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر ترقی پائی اور پھر۲۴/اگست۲۰۱۶ء سےتاحال اسی ادارہ میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر/سربراہِ شعبہ اردو خدمات انجام دے رہے ہیں۔دورانِ ملازمت ۲۰۰۶ء میں جامعہ پنجاب سے ”اردو غزل کا تکنیکی، ہیئتی اورعروضی سفر“ کے عنوان سےتحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی (اردو) کی سند حاصل کی۔
ان کی تصانیف و تالیفات میں: (1)آغوشِ گُل (مجموعہ شعر) 1990ء (2)مقالاتِ برق (ترتیب) شیخ غلام علی اینڈ سنز،لاہور، 1991ء (3)ابھی تک تم نہیں سمجھے (مجموعہ غزل) ماہِ ادب، لاہور، 1992ء (4)ضلع اٹک دے پنجابی شاعر (تحقیق)؛پنجابی ادبی سنگت،اٹک، 1995ء (5)اشلوک (ترجمہ و تہذیبِ کلامِ بابا فریدؒ) زاویہ، لاہور، 1999ء (6) اٹک کے اہلِ قلم (ترتیب) پنجابی ادبی سنگت، اٹک؛ 2000ء(7)یادگارِ احمد بخش برننگ (ترتیب)پنجابی ادبی سنگت ؛ اٹک؛ 2004ء(8)چھاچھی بولی ۔لسانی و ادبی جائزہ ؛ پنجابی ادبی سنگت؛اٹک؛2004ء(9)اردو غزل کا تکنیکی ، ہیئتی اور عروضی سفر؛ مجلسِ ترقیِ ادب۔لاہور؛ 2008ء (10)مکاتیبِ رشید حسن خان بہ نام ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی (حواشی و تعلیقات)؛ ادبیات؛ لاہور؛2008ء (11)رنگ (مجموعہ غزل)؛ سرمد اکادمی ،اٹک؛ 2009ء (12)آپنا گراں پووے (لوک ادب) تحقیق وتہذیب؛ پاکستان پنجابی ادبی بورڈ لاہور؛2009ء (13) تذکرہ علما(تدوین و تحشیہ)؛الفتح پبلی کیشنز، راول پنڈی؛2011ء (14)اطرافِ تحقیق (مقالات)؛الفتح پبلی کیشنز، راول پنڈی؛2012ء (15)گیان نامے(تہذیب و تحشیہ)؛سرمد اکادمی،اٹک؛2013ء (16)مکاتیبِ آرزوؔ (تہذیب و تحشیہ)؛الفتح پبلی کیشنز، راول پنڈی؛2012ء (17)اصنافِ ادب:تفہیم و تعبیر؛ نیشنل بُک فاؤنڈیشن، اسلام آباد؛2015ء (18)بادۂِ ناخوردہ(تدوین و تقدیم)؛سرمد اکادمی؛اٹک؛2015ء (19)انتخابِ کلامِ میرؔ (انتخاب و تقدیم)؛نیشنل بُک فاؤنڈیشن،اسلام آباد؛2015ء (20)کتاب نامہ ( مثنوی)؛سرمد اکادمی،اٹک؛2016ء (21)جادۂ تحقیق (تحقیقی مضامین)؛ پورب اکادمی ،اسلام آباد ؛2016ء (22)انتخابِ کلامِ حالی (انتخاب مع مقدمہ)؛نیشنل بُک فاؤنڈیشن،اسلام آباد؛2016ء (23)کتب خانہ مولانا محمد علی مکھڈی دے پنجابی خطی نسخے (کیفیت نگاری)؛پنجابی ادبی سنگت ،اٹک؛2016ء (24)اشلوک (انتخاب مع ترجمہ)؛ ادارہ یادگارِ غالب، کراچی؛2017ء (25)سیرِ سوات (تدوین و تحشیہ)؛ قلم انٹرنیشنل،لاہور؛2019ء (26)انتخابِ کلامِ شاہ نصیرؔ(انتخاب ) آکسفورڈ،کراچی؛2019ء (27)تدریسِ علومِ شعریہ (تدوین و تہذیب)؛رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی2020ء (28)مکاتیبِ ہم نفساں (تدوین و تہذیب)؛ سرمد اکادمی، اٹک؛2020ء (29)امان اللغات (تدوین و تہذیب) ؛ ادارہ فروغِ قومی زبان ، اسلام آباد؛2020ء (30)مڈھلی پنجابی گرامر (تالیف)؛ پاکستانی پنجابی ادبی بورڈ، لاہور؛2020ء(۳۱) روشنی کی ایک صدی، گورنمنٹ کالج اٹک کی تاریخ(تحقیق و تہذیب)سرمداکادمی، اٹک۲۰۲۴ء۔ شامل ہیں۔
آپ بہت سے علمی و ادبی اداروں سے وابستہ ہیں جن میں: ۱۔پاکستان رائٹر گلڈ، لاہور۔۲۔پنجابی ادبی سنگت،اٹک۔ ۳۔تاحیات رُکن اقبال اکادمی پاکستان۔۴۔ممبر پاکستان پنجابی ادبی بورڈ، لاہور۔۵۔ممبر رائٹر ویلیفیئر کمیٹی، ضلع اٹک؛حکومتِ پنجاب۔ ۶۔ممبر جائزہ کمیٹی شعبہ اردو، پاکستانی زبانیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد۔ ۷۔ممبر نیشنل ریویو کمیٹی ، شعبہ نصاب، وزارتِ تعلیم، اسلام آباد۔ ۸۔ممبر بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز، ہزارہ یونیورسٹی، مانسہرہ۔ ۹۔ممبر بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز،الخیر یونیورسٹی،بھمبر،آزاد کشمیر۔ ۱۰۔ممبر ذیلی کمیٹی برائے معیار بندی تراجم ، وزارتِ انفارمیشن ، حکومتِ پاکستان۔۱۱۔ممبر APEX کمیٹی ، وزارتِ مذہبی امور، حکومتِ پاکستان۔ ۱۲۔ممبر مسودات جائزہ کمیٹی، اقبال اکادمی، پاکستان، لاہور۔ ۱۳۔ممبر بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز، جامعہ پنجاب، لاہور وغیر شامل ہیں۔
آپ کی نگرانی میں ایم فل (اُردو) ، ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی (اردو) ،ایم فل ( پاکستانی زبانیں )،پی ایچ ڈی (پاکستانی زبانیں)اورپی ایچ ڈی (اردو)کے متعددمقالات پر اسناد جاری ہو چکی ہیں۔
ارشد محمود ناشاد نے ۱۹۸۵ء میں باقاعدہ شعر گوئی اختیار کی۔شاعری میں اصغر بریلوی اور نذر صابری ان کے استاد ہیں۔ وہ بہت خوبصورت نعت لکھتے ہیں۔کسی بھی تخلیق کی قدر و قیمت کا تعین تخلیق کار کی ہنر مندی سے ہوتا ہے۔ناشاد کو یہ کمالِ ہنر مندی حاصل ہے۔ ان کے نعت پارے نہ صرف متن کے اعتبار سے قدر و قیمت کے حامل ہوتے ہیں بلکہ پیش کش، فنی شعور، جمالیاتی ذوق، اثر پذیری و سرشاری کے خوبصورت اور پر کیف اظہاریوں کے اعتبار سے بھی نظیری نیشاپوری کے اس شعر کے مصداق ہوتے ہیں:
ز فرق تا قدمش ھر کجا کہ می نگرَم
کرشمہ دامنِ دل می کشدکہ جا اینجاست
ایسی کرشمہ سازی ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ یہ طویل فکری مراقبوں اور مسلسل جہد و ریاضت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ایک بڑا تخلیق کار خیال کے شعری پیکر کی تشکیل کے لیے اس کے جملہ تقاضوں پر نگاہ رکھتا ہے اور یہی عمل اس کی ہنر مندی اور کرشمہ سازی کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ غزل کے میدان میں ڈاکٹر صاحب کی طویل شعری ریاضت، فن نقد و نظر سے ان کی گہری آشنائی ، اور جمالیاتی بصیرت نے اُن کے نعتیہ اظہار کو لطافت اور تازگی کی نئی جہات سے آشنا کیا ہے۔
(سہ ماہی فروغ نعت، شمارہ۲۸تا۳۳،اپریل۲۰۲۰ تاستمبر۲۰۲۲ء)
(نعت گویان اٹک مرتبہ: سید شاکرالقادری ناشر :اکادمی فروغ نعت اٹک پاکستان)
نمونہ کلام:۔
فاراں کی چوٹیوں پہ جو چمکا عرب کا چاند
ہر سمت کر گیا ہے اُجالا عرب کا چاند
وہ سرزمین بوسہ گہِ قدسیاں ہوئی
جس سرزمیں کی خاک پہ اُترا عرب کا چاند
اُس پر بصارتوں کا صحیفہ تمام ہے
جس خوش نصیب آنکھ نے دیکھا عرب کا چاند
رخشندگی میں کون عدیم المثال ہے؟
لوحِ تخیلات پہ اُبھرا عرب کا چاند
مہر و مہ و نجوم کی دُنیا ہو مضطرب
کر دے جو اِک ذرا سا اشارا عرب کا چاند
سدرہ سے اُس طرف کے مناظر بدل گئے
معراج رات عرش پہ پہنچا عرب کا چاند
خوفِ غروب جس کو نہ رنجِ کسوف ہے
نقشِ ا بد نشاں ہے وہ پُورا عرب کا چاند
ارشد محمود ناشاد یکم جنوری ۱۹۷۰ ءکو ضلع اٹک کے ایک دور افتادہ اور پس ماندہ گاؤں ڈومیال میں اصغر علی کے گھر میں پیدا ہوئے۔سیماب پائی کے باعث ثانوی تعلیم کی تکمیل تک متعدد ادارے تبدیل کیے۔بالآخر۱۹۸۶ء میں ایف جی بوائز ہائی سکول اٹک سے میٹرک کا امتحان درجہ اول میں پاس کیا۔۱۹۸۸ء میں گورنمنٹ کالج اٹک سےایف۔ اےکا امتحان( درجہ دوم ) اور۱۹۹۱ء میں جامعہ پنجاب، لاہور سے بی۔اے (درجہ دوم) میں پاس کرنے کے بعدمختلف اداروں میں ملازمت کرتے رہے اور ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی۔۱۹۹۳ء میں جامعہ پنجاب سے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے ایم۔اےاردو( درجہ اول) اور ۱۹۹۵ء میں ایم۔اےپنجابی(درجہ دوم) کی تکمیل کی۔بعد میں گجرانوالہ کے ایک معروف تعلیمی ادارے پاکستان انٹرنیشنل پبلک سکول اینڈ کالج سے بہ طور استاد منسلک رہے۔ 11 /مارچ 1997ء کوگورنمنٹ کالج آف کامرس، اٹک میں بطور لیکچرار(اردو) تعینات ہوئے۔ازاں بعد۲/نومبر۲۰۰۷ء کوعلامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی، اسلام آباد میں بطورلیکچرار (اردو) شمولیت اختیار کی،۱۴/جولائی۲۰۱۱ء کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر ترقی پائی اور پھر۲۴/اگست۲۰۱۶ء سےتاحال اسی ادارہ میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر/سربراہِ شعبہ اردو خدمات انجام دے رہے ہیں۔دورانِ ملازمت ۲۰۰۶ء میں جامعہ پنجاب سے ”اردو غزل کا تکنیکی، ہیئتی اورعروضی سفر“ کے عنوان سےتحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی (اردو) کی سند حاصل کی۔
ان کی تصانیف و تالیفات میں: (1)آغوشِ گُل (مجموعہ شعر) 1990ء (2)مقالاتِ برق (ترتیب) شیخ غلام علی اینڈ سنز،لاہور، 1991ء (3)ابھی تک تم نہیں سمجھے (مجموعہ غزل) ماہِ ادب، لاہور، 1992ء (4)ضلع اٹک دے پنجابی شاعر (تحقیق)؛پنجابی ادبی سنگت،اٹک، 1995ء (5)اشلوک (ترجمہ و تہذیبِ کلامِ بابا فریدؒ) زاویہ، لاہور، 1999ء (6) اٹک کے اہلِ قلم (ترتیب) پنجابی ادبی سنگت، اٹک؛ 2000ء(7)یادگارِ احمد بخش برننگ (ترتیب)پنجابی ادبی سنگت ؛ اٹک؛ 2004ء(8)چھاچھی بولی ۔لسانی و ادبی جائزہ ؛ پنجابی ادبی سنگت؛اٹک؛2004ء(9)اردو غزل کا تکنیکی ، ہیئتی اور عروضی سفر؛ مجلسِ ترقیِ ادب۔لاہور؛ 2008ء (10)مکاتیبِ رشید حسن خان بہ نام ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی (حواشی و تعلیقات)؛ ادبیات؛ لاہور؛2008ء (11)رنگ (مجموعہ غزل)؛ سرمد اکادمی ،اٹک؛ 2009ء (12)آپنا گراں پووے (لوک ادب) تحقیق وتہذیب؛ پاکستان پنجابی ادبی بورڈ لاہور؛2009ء (13) تذکرہ علما(تدوین و تحشیہ)؛الفتح پبلی کیشنز، راول پنڈی؛2011ء (14)اطرافِ تحقیق (مقالات)؛الفتح پبلی کیشنز، راول پنڈی؛2012ء (15)گیان نامے(تہذیب و تحشیہ)؛سرمد اکادمی،اٹک؛2013ء (16)مکاتیبِ آرزوؔ (تہذیب و تحشیہ)؛الفتح پبلی کیشنز، راول پنڈی؛2012ء (17)اصنافِ ادب:تفہیم و تعبیر؛ نیشنل بُک فاؤنڈیشن، اسلام آباد؛2015ء (18)بادۂِ ناخوردہ(تدوین و تقدیم)؛سرمد اکادمی؛اٹک؛2015ء (19)انتخابِ کلامِ میرؔ (انتخاب و تقدیم)؛نیشنل بُک فاؤنڈیشن،اسلام آباد؛2015ء (20)کتاب نامہ ( مثنوی)؛سرمد اکادمی،اٹک؛2016ء (21)جادۂ تحقیق (تحقیقی مضامین)؛ پورب اکادمی ،اسلام آباد ؛2016ء (22)انتخابِ کلامِ حالی (انتخاب مع مقدمہ)؛نیشنل بُک فاؤنڈیشن،اسلام آباد؛2016ء (23)کتب خانہ مولانا محمد علی مکھڈی دے پنجابی خطی نسخے (کیفیت نگاری)؛پنجابی ادبی سنگت ،اٹک؛2016ء (24)اشلوک (انتخاب مع ترجمہ)؛ ادارہ یادگارِ غالب، کراچی؛2017ء (25)سیرِ سوات (تدوین و تحشیہ)؛ قلم انٹرنیشنل،لاہور؛2019ء (26)انتخابِ کلامِ شاہ نصیرؔ(انتخاب ) آکسفورڈ،کراچی؛2019ء (27)تدریسِ علومِ شعریہ (تدوین و تہذیب)؛رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی2020ء (28)مکاتیبِ ہم نفساں (تدوین و تہذیب)؛ سرمد اکادمی، اٹک؛2020ء (29)امان اللغات (تدوین و تہذیب) ؛ ادارہ فروغِ قومی زبان ، اسلام آباد؛2020ء (30)مڈھلی پنجابی گرامر (تالیف)؛ پاکستانی پنجابی ادبی بورڈ، لاہور؛2020ء(۳۱) روشنی کی ایک صدی، گورنمنٹ کالج اٹک کی تاریخ(تحقیق و تہذیب)سرمداکادمی، اٹک۲۰۲۴ء۔ شامل ہیں۔
آپ بہت سے علمی و ادبی اداروں سے وابستہ ہیں جن میں: ۱۔پاکستان رائٹر گلڈ، لاہور۔۲۔پنجابی ادبی سنگت،اٹک۔ ۳۔تاحیات رُکن اقبال اکادمی پاکستان۔۴۔ممبر پاکستان پنجابی ادبی بورڈ، لاہور۔۵۔ممبر رائٹر ویلیفیئر کمیٹی، ضلع اٹک؛حکومتِ پنجاب۔ ۶۔ممبر جائزہ کمیٹی شعبہ اردو، پاکستانی زبانیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد۔ ۷۔ممبر نیشنل ریویو کمیٹی ، شعبہ نصاب، وزارتِ تعلیم، اسلام آباد۔ ۸۔ممبر بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز، ہزارہ یونیورسٹی، مانسہرہ۔ ۹۔ممبر بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز،الخیر یونیورسٹی،بھمبر،آزاد کشمیر۔ ۱۰۔ممبر ذیلی کمیٹی برائے معیار بندی تراجم ، وزارتِ انفارمیشن ، حکومتِ پاکستان۔۱۱۔ممبر APEX کمیٹی ، وزارتِ مذہبی امور، حکومتِ پاکستان۔ ۱۲۔ممبر مسودات جائزہ کمیٹی، اقبال اکادمی، پاکستان، لاہور۔ ۱۳۔ممبر بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز، جامعہ پنجاب، لاہور وغیر شامل ہیں۔
آپ کی نگرانی میں ایم فل (اُردو) ، ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی (اردو) ،ایم فل ( پاکستانی زبانیں )،پی ایچ ڈی (پاکستانی زبانیں)اورپی ایچ ڈی (اردو)کے متعددمقالات پر اسناد جاری ہو چکی ہیں۔
ارشد محمود ناشاد نے ۱۹۸۵ء میں باقاعدہ شعر گوئی اختیار کی۔شاعری میں اصغر بریلوی اور نذر صابری ان کے استاد ہیں۔ وہ بہت خوبصورت نعت لکھتے ہیں۔کسی بھی تخلیق کی قدر و قیمت کا تعین تخلیق کار کی ہنر مندی سے ہوتا ہے۔ناشاد کو یہ کمالِ ہنر مندی حاصل ہے۔ ان کے نعت پارے نہ صرف متن کے اعتبار سے قدر و قیمت کے حامل ہوتے ہیں بلکہ پیش کش، فنی شعور، جمالیاتی ذوق، اثر پذیری و سرشاری کے خوبصورت اور پر کیف اظہاریوں کے اعتبار سے بھی نظیری نیشاپوری کے اس شعر کے مصداق ہوتے ہیں:
ز فرق تا قدمش ھر کجا کہ می نگرَم
کرشمہ دامنِ دل می کشدکہ جا اینجاست
ایسی کرشمہ سازی ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ یہ طویل فکری مراقبوں اور مسلسل جہد و ریاضت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ایک بڑا تخلیق کار خیال کے شعری پیکر کی تشکیل کے لیے اس کے جملہ تقاضوں پر نگاہ رکھتا ہے اور یہی عمل اس کی ہنر مندی اور کرشمہ سازی کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ غزل کے میدان میں ڈاکٹر صاحب کی طویل شعری ریاضت، فن نقد و نظر سے ان کی گہری آشنائی ، اور جمالیاتی بصیرت نے اُن کے نعتیہ اظہار کو لطافت اور تازگی کی نئی جہات سے آشنا کیا ہے۔
(سہ ماہی فروغ نعت، شمارہ۲۸تا۳۳،اپریل۲۰۲۰ تاستمبر۲۰۲۲ء)
(نعت گویان اٹک مرتبہ: سید شاکرالقادری ناشر :اکادمی فروغ نعت اٹک پاکستان)
نمونہ کلام:۔
فاراں کی چوٹیوں پہ جو چمکا عرب کا چاند
ہر سمت کر گیا ہے اُجالا عرب کا چاند
وہ سرزمین بوسہ گہِ قدسیاں ہوئی
جس سرزمیں کی خاک پہ اُترا عرب کا چاند
اُس پر بصارتوں کا صحیفہ تمام ہے
جس خوش نصیب آنکھ نے دیکھا عرب کا چاند
رخشندگی میں کون عدیم المثال ہے؟
لوحِ تخیلات پہ اُبھرا عرب کا چاند
مہر و مہ و نجوم کی دُنیا ہو مضطرب
کر دے جو اِک ذرا سا اشارا عرب کا چاند
سدرہ سے اُس طرف کے مناظر بدل گئے
معراج رات عرش پہ پہنچا عرب کا چاند
خوفِ غروب جس کو نہ رنجِ کسوف ہے
نقشِ ا بد نشاں ہے وہ پُورا عرب کا چاند